قومی خبریں

مدھیہ پردیش میں 69 ہزار اساتذہ کے عہدے خالی، 2269 اسکولوں میں ایک ہی استاد کیوں: کانگریس

مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے تعلیمی نظام کی خامیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں کی تعداد میں کمی، اساتذہ کی خالی آسامیوں اور طلبہ کے اسکول چھوڑنے کے اعداد و شمار پیش کیے

<div class="paragraphs"><p>جیتو پٹواری، تصویر قومی آواز/ویپن</p></div>

جیتو پٹواری، تصویر قومی آواز/ویپن

 

بھوپال: مدھیہ پردیش کانگریس کے صدر جیتو پٹواری نے بدھ کو ریاست اور ملک کے تعلیمی نظام میں موجود خامیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے سرکاری اسکولوں کی تعداد میں کمی، اساتذہ کی خالی آسامیوں اور اسکول و اعلیٰ تعلیم میں طلبہ کے کم ہوتے داخلوں کے اعداد و شمار پیش کیے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اپنی نوجوان آبادی سے حاصل ہونے والے جن سائنک فائدے سے اسی وقت فائدہ اٹھا سکتا ہے جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع دستیاب ہوں۔

پٹواری نے پریس کانفرنس میں آل انڈیا سروے آن ہائر ایجوکیشن، یو-ڈائس پلس، اقتصادی سروے اور نیتی آیوگ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں بڑی تعداد میں نوجوان اعلیٰ تعلیم سے باہر ہیں، جبکہ لاکھوں بچے اسکولی تعلیم مکمل نہیں کر پاتے۔

ان کے مطابق، پہلی جماعت میں داخلہ لینے والے بچوں میں سے صرف 47.2 فیصد ہی بارہویں جماعت تک پہنچ پاتے ہیں۔ پٹواری نے دعویٰ کیا کہ 2014-15 سے 2025-26 کے درمیان ملک بھر میں سرکاری اسکولوں کی تعداد میں تقریباً 1.02 لاکھ کی کمی آئی ہے۔

مدھیہ پردیش کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اسی عرصے میں ریاست میں سرکاری اسکولوں کی تعداد میں تقریباً 30650 کی کمی ہوئی۔ ان کے مطابق ریاست میں اساتذہ کی 69667 آسامیوں پر تقرری باقی ہے۔

پٹواری نے ایسے اسکولوں کی تعداد کا بھی ذکر کیا جہاں صرف ایک استاد تعینات ہے۔ ان کے مطابق مدھیہ پردیش میں 2269 اسکول ایسے ہیں جہاں ایک ہی استاد بچوں کو پڑھا رہا ہے اور ان اسکولوں میں تقریباً 2.29 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ پریزنٹیشن میں ملک بھر میں ایسے 100843 اسکولوں کا بھی ذکر کیا گیا۔

اعلیٰ تعلیم کے حوالے سے پٹواری نے کہا کہ ملک میں اعلیٰ تعلیم کا مجموعی داخلہ تناسب (جی ای آر) تقریباً 30 فیصد ہے۔ ان کے مطابق اس کا مطلب ہے کہ تقریباً 10.5 کروڑ نوجوان اعلیٰ تعلیم کے دائرے سے باہر ہیں۔ مدھیہ پردیش کی سرکاری یونیورسٹیوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کی 17 سرکاری یونیورسٹیوں میں منظور شدہ 1949 عہدوں میں سے 1585 عہدے خالی ہیں۔

پٹواری نے کہا کہ نوجوان آبادی ملک کی بڑی طاقت بن سکتی ہے، لیکن اس کے لیے ہر بچے کو اسکول، ہر نوجوان کو اعلیٰ تعلیم اور ہنر سیکھنے کے مواقع اور روزگار فراہم کرنا ضروری ہے۔

یہ بیان کانگریس لیڈر راہل گاندھی کے 19 ستمبر کو اندور میں ہونے والے ’طلبہ کی گونج‘ پروگرام سے تین دن قبل آیا ہے۔ یہ پروگرام طلبہ اور نوجوانوں سے متعلق مسائل پر مرکوز ہے۔ کانگریس نے حکومت سے تعلیم کے شعبے پر وائٹ پیپر جاری کرنے، خالی تدریسی عہدوں کو پُر کرنے اور تعلیم سے روزگار تک کا ایک وقت مقررہ روڈ میپ پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔