11 روپے کے ’آئی وی سیٹ‘ کی ’ایم آر پی‘ 325 روپے! طبی سامان کی قیمتوں پر آئی اے ایس افسر نے اٹھایا سوال

تکارام منڈے کی پوسٹ کے مطابق 6 روپے 75 پیسے میں خریدی گئی سرنج کی ایم آر پی 57 روپے 20 پیسے بتائی گئی اور 29 روپے 41 پیسے میں خریدے گئے کیتھیٹر کی ایم آر پی 310 روپے تھی۔

<div class="paragraphs"><p>تکارام منڈے، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

اسپتال میں علاج کے دوران مریض کے ہاتھ میں جو بل آتا ہے، اس میں کئی ایسی چیزیں شامل ہوتی ہیں جن کی اصل خرید قیمت کا شاید ہی مریض کو علم ہوتا ہے۔ اب مہاراشٹر کے آئی اے ایس افسر تکارام منڈے نے ’ایکس’ پوسٹ کے ذریعے میڈیکل کنزیومیبلز (طبی استعمال کی اشیاء) کی قیمت اور ان کی تجارتی قیمت کے درمیان فرق پر سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے مہاراشٹر میں کیے گئے ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 11.50 روپے کے آئی وی انفیوژن سیٹ کی ایم آر پی 325 روپے تھی۔

اسپتال کا بل دیکھتے وقت کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جس طبی سامان کی آپ ادائیگی کر رہے ہیں... ہسپتال نے اسے کتنے میں خریدا ہوگا؟ مہاراشٹر فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے کمشنر آئی اے ایس افسر تکارام منڈے نے یہی سوال اٹھایا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں مہاراشٹر کے اسپتالوں میں طبی استعمال کی اشیاء کے ایک سروے کا حوالہ دیا۔ اس کے مطابق 11.5 روپے کی تجارتی قیمت والے ایک آئی وی انفیوژن سیٹ کے لیے مریض سے تقریباً 29 گنا زیادہ رقم وصول کی جاتی ہے۔


صرف آئی وی سیٹ ہی نہیں تکارام منڈے کی پوسٹ میں 2 مزید مثالیں دی گئی ہیں۔ 6 روپے 75 پیسے میں خریدی گئی سرنج کی ایم آر پی 57 روپے 20 پیسے بتائی گئی اور 29 روپے 41 پیسے میں خریدے گئے کیتھیٹر کی ایم آر پی 310 روپے تھی۔ یعنی ان 3 مثالوں میں تجارتی قیمت اور ایم آر پی کے درمیان بڑا فرق نظر آتا ہے۔ جب آپ کسی میڈیکل اسٹور سے دوا خریدتے ہیں تو آپ کے پاس قیمت دیکھنے اور دوسرے برانڈ سے موازنہ کرنے کا اختیار ہو سکتا ہے۔ لیکن اسپتال میں داخل مریض کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔ علاج کے دوران استعمال ہونے والے آئی وی سیٹ، سرنج یا کیتھیٹر کی قیمت کے لیے مریض عام طور پر نہ تو مختلف دکانوں پر جا کر قیمتیں تلاش کر سکتا ہے اور نہ ہی علاج کے دوران متبادل چیزوں کا موازنہ کر سکتا ہے۔ سامان استعمال ہوتا ہے اور اس کا خرچ براہ راست اسپتال کے بل میں شامل ہو جاتا ہے۔ یعنی جس شخص کی جیب سے رقم جا رہی ہے، اسی کے پاس قیمت کی مکمل معلومات نہیں ہوتیں۔

اب سوال یہ ہے کہ آخر کسی طبی استعمال کی چیز کی قیمت اتنی بڑھتی کیسے ہے؟ طبی سامان کی ایک مکمل سپلائی چین ہوتی ہے۔ مینوفیکچرر سے سامان نکلتا ہے، پھر ڈسٹری بیوٹر اور سپلائر کے ذریعے اسپتال تک پہنچتا ہے۔ اس پورے عمل کے دوران قیمت تبدیل ہوتی رہتی ہے، لیکن آخر میں مریض کو صرف بل نظر آتا ہے۔ اسے اکثر یہ معلومات نہیں ہوتی کہ اسپتال نے سامان کتنی قیمت میں خریدا اور بل میں کتنی قیمت درج کی گئی۔


آئی اے ایس افسر تکارام منڈے نے اپنی پوسٹ میں طبی استعمال کی اشیاء کی قیمتوں کے ضابطے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے۔ ادویات کی قیمتوں کے لیے ڈرگز (پرائسز کنٹرول) آرڈر، 2013 کے تحت قیمتیں مقرر کرنے کا نظام موجود ہے۔ این پی پی اے یعنی نیشنل فارماسیوٹیکل پرائسنگ اتھارٹی بھی ادویات کی قیمتوں کے ضابطے میں کردار ادا کرتی ہے، لیکن زیادہ تر طبی آلات اور طبی استعمال کی اشیاء پر قیمت کی حد لاگو نہیں ہوتی۔

تکارام منڈے کی پوسٹ میں بتایا گیا ہے کہ محکمہ ادویات اور این پی پی اے کے سامنے تجارتی خریداری کی قیمت اور اعلان کردہ ایم آر پی کے درمیان فرق کے حوالے سے واضح رہنما خطوط وضع کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مقصد صرف قیمت کم کرنا نہیں... بلکہ مریض اور اسپتال کے درمیان موجود معلومات کے خلا کو بھی کم کرنا ہے... یعنی مریض کو یہ معلوم ہو کہ اس کے علاج میں استعمال ہونے والے سامان کی قیمت کس بنیاد پر طے کی گئی ہے۔