نوئیڈا میں کسانوں کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری، تینوں اتھارٹیز کے باہر ڈٹے ہزاروں کسان

نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا اتھارٹی کے باہر کسانوں کا احتجاج تیسرے روز بھی جاری رہا۔ کسان 10 فیصد پلاٹ، اضافی معاوضہ، آبادی و لیز بیک کے زیر التوا معاملات کے حل کا مطالبہ کر رہے ہیں

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

نوئیڈا: نوئیڈا، گریٹر نوئیڈا اور یمنا اتھارٹی کے باہر کسانوں کا اپنی مختلف مطالبات کو لے کر جاری دھرنا بدھ کو تیسرے روز بھی جاری رہا۔ ہزاروں کسان تینوں اتھارٹیز کے دفاتر کے باہر خیمے لگا کر ڈٹے ہوئے ہیں۔ کسانوں نے واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے اہم مطالبات پر ٹھوس فیصلہ نہیں کیا جاتا، احتجاج جاری رہے گا۔

کسانوں کے اہم مطالبات میں زمین کے حصول کے بدلے 10 فیصد ترقی یافتہ پلاٹ دیے جانے کا مطالبہ شامل ہے۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے ان کی زمینیں حاصل کی گئیں، لیکن اس کے بدلے ملنے والے فوائد، معاوضے اور بازآبادکاری سے متعلق کئی معاملات اب بھی حل طلب ہیں۔

کسان طویل عرصے سے 10 فیصد ترقی یافتہ پلاٹ دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے آبادی کے نپٹارے اور لیز بیک سے متعلق زیر التوا معاملات کو فوری طور پر حل کرنے کی بھی مانگ کی ہے۔ کسانوں کا دعویٰ ہے کہ بڑی تعداد میں ایسے معاملات طویل عرصے سے اتھارٹیز کی سطح پر زیر التوا ہیں، جس کی وجہ سے متاثرہ خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ زیر التوا معاملات کے نپٹارے کے عمل میں تیزی لائی جائے۔


کسانوں نے 64.7 فیصد اضافی معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ بھی اٹھایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کے حصول کے وقت طے کیے گئے معاوضے اور موجودہ حالات کے درمیان کافی فرق ہے۔ ایسے میں متاثرہ کسانوں کو اضافی معاوضہ دیا جانا چاہیے تاکہ انہیں اپنی زمین کا مناسب مالی فائدہ مل سکے۔

احتجاج کر رہے کسانوں نے اپنے بچوں کے لیے روزگار کے مواقع فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین دینے والے کسان خاندانوں کی معاشی صورتحال اور مستقبل کو بھی پالیسی میں شامل کیا جانا چاہیے۔ کسانوں کے بچوں کو مقامی سطح پر روزگار فراہم کرنے کی مانگ کی جا رہی ہے۔

اس کے علاوہ کسانوں نے سرکل ریٹ میں اضافہ نہ ہونے کا مسئلہ بھی اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ تقریباً 12 برس سے سرکل ریٹ میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ اس دوران زمین کی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں تبدیلی آئی ہے۔

کسانوں کا مطالبہ ہے کہ زمین کے حصول سے متعلق معاملات میں موجودہ اور مناسب مارکیٹ ریٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاوضے کا تعین کیا جائے۔ تینوں اتھارٹیز کے باہر جاری دھرنے میں کسان خیمے لگا کر مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ کسانوں نے کہا ہے کہ مطالبات کا مستقل حل ہونے تک تحریک جاری رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے مطالبات پر قائم ہیں اور فیصلہ ہونے تک احتجاج ختم نہیں کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔