
تصویر : کے سی وینو گوپال ’ایکس‘ ہینڈل
کانگریس پارٹی کی جانب سے تنظیم کو نچلی سطح پر مضبوط کرنے کے لیے بڑے پیمانے پرشروع کی گئی ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ مہم میں تیزی آگئی ہے۔ اس مہم کے حوالے سے پارٹی کارکنان اورعہدیداران میں زبردست جوش خروش پایا جارہا ہے کیونکہ پارٹی اعلیٰ قیادت بذات خود کارکنان اور رہنماؤں سے مخاطب ہورہی ہے۔ اس دوران مہم کی پیشرفت کا اشتراک کرتے ہوئے کانگریس کے قومی جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے بتایا کہ 8 ریاستوں کے نئے مقرر کردہ ڈسٹرکٹ کانگریس کمیٹی (ڈی سی سی) صدور کے لیے ایک روزہ تربیتی سیشن زبردست کامیاب رہا۔
Published: undefined
وینوگوپال نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر میٹنگ کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’سنگٹھن سرجن ابھیان‘ کے تحت 8 ریاستوں کے نو مقررہ ڈی سی سی صدور کے لیے ایک روزہ تربیتی سیشن بہت کامیاب رہا۔ اس اہم اور سنجیدہ پروگرام میں 286 ڈی سی سی صدور نے حصہ لیا، جس میں کانگریس کے قومی صدر ملیکارجن کھڑگے اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے اپنی گراں قدر رہنمائی سے اسے مزید بہتر بنادیا۔
Published: undefined
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یہ مہم پارٹی کی نچلی سطح پر تنظیم کو مضبوط کرنے کے لیے ایک اہم مشن ہے۔ اب تک 14 ریاستوں میں مہم کے 5 مراحل مکمل ہو چکے ہیں جس میں 531 ڈی سی سی صدور مقرر کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگلے مرحلے کے تحت مزید 6 ریاستوں کے 218 اضلاع میں یہ عمل جاری ہے۔ شفافیت اور لگن یقینی بنانے کے لیے کانگریس ورکنگ کمیٹی(سی ڈبلیو سی) کے رکن، سابق پی سی صدر، ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی سمیت 284 اے آئی سی سیآبزروروں نے مجموعی طور پر 2,604 دن فیلڈ میں گزارے۔ یہ کوشش تنظیم کی مضبوطی اور جوابدہی کو بہتر بناتی ہے۔
Published: undefined
کے سی وینوگوپال نے مزید کہا کہ مہم کے اعلان کے بعد سے4 ریاستوں میں 172 ڈی سی سی کے لیے 10 روزہ تربیتی کیمپ کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں۔ ٹریننگ کا اگلا مرحلہ 21 فروری کو تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں شروع ہوگا۔ یہ اجتماعی کوشش پارٹی کی مضبوط تنظیم بنانے کے لیے غیر متزلزل عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ کانگریس قیادت کا ماننا ہے کہ ضلع، بلاک، منڈل، گرام پنچایت اور بوتھ سطح پر مضبوط تنظیم آئندہ انتخابات میں کامیابی کی کلید ہے۔ مہم میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، اقلیتی اور نوجوان کارکنوں کی شمولیت پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined