قومی خبریں

کانگریس نے بارامتی میں ضمنی انتخاب نہ لڑنے کا کیا فیصلہ، اجیت پوار کے اعزاز میں اٹھایا گیا قدم

کانگریس نے کہا کہ یہ ضمنی انتخاب اجیت پوار کی افسوسناک موت کے سبب ہو رہا ہے، اس لیے پارٹی نے اعزاز کے طور پر انتخاب نہیں لڑنے کا فیصلہ لیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>اجیت پوار، تصویر ’ایکس‘</p></div>

اجیت پوار، تصویر ’ایکس‘

 

مہاراشٹر کی سیاست میں بارامتی اسمبلی حلقہ کے لیے ضمنی انتخاب نے ایک اہم موڑ لے لیا ہے۔ کانگریس نے اعلان کر دیا ہے کہ وہ اس ضمنی انتخاب میں حصہ نہیں لے گی۔ یہ فیصلہ سابق نائب وزیر اعلیٰ اجیت پوار کے انتقال کے بعد خراج عقیدت پیش کرنے کے طور پر لیا گیا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد اب بارامتی اسمبلی سیٹ پر انتخاب کا ماحول پوری طرح بدل گیا ہے۔

Published: undefined

کانگریس کے سینئر لیڈر رمیش چنیتھالا نے صاف لفظوں میں کہا ہے کہ پارٹی نے اپنے امیدوار کو میدان سے ہٹانے کی ہدایت دے دی ہے۔ کانگریس امیدوار آکاش مورے نے پرچۂ نامزدگی داخل کر دیا تھا، لیکن اب اسے واپس لیا جائے گا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پرچۂ نامزدگی واپس لینے کا آج آخری دن ہے، اس لیے یہ فیصلہ انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔

Published: undefined

اس معاملہ میں کانگریس کا کہنا ہے کہ بارامتی ضمنی انتخاب اجیت پوار کے افسوسناک انتقال کے سبب ہو رہا ہے، اس لیے پارٹی نے اعزاز کے طور پر انتخاب نہیں لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پارٹی کا ماننا ہے کہ ایسے وقت میں سیاسی مقابلے سے دور رہنا مناسب ہے۔ یہ قدم سیاسی اخلاقیات اور حساسیت کو دھیان میں رکھ کر اٹھایا گیا ہے۔

Published: undefined

اس فیصلہ سے قبل کئی لیڈران نے کانگریس سے انتخاب نہ لڑنے کی اپیل کی تھی۔ شرد پوار، سپریا سولے اور روہت پوار سمیت کئی لیڈران نے کانگریس سے ضمنی انتخاب کو بلامقابلہ کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ یہ انتخاب ایک دردناک حادثہ کے بعد ہو رہا ہے، اس لیے اسے باعزت طریقے سے ہونا چاہیے۔

Published: undefined

بہرحال، کانگریس کے ذریعہ انتخابی میدان سے قدم پیچھے کھینچنے کے بعد سنیترا پوار کا راستہ آسان ہو گیا ہے۔ اگر دیگر کوئی بڑا امیدوار سامنے نہیں آتا، تو یہ انتخاب تقریباً بلامقابلہ ہو سکتا ہے۔ بارامتی سٹی پر اجیت پوار 8 مرتبہ رکن اسمبلی رہ چکے تھے اور یہ حلقہ ان کے سیاسی اثر کا قلعہ مانا جاتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined