پاکستان: عمران خان کی بہنوں پر دہشت گردی کا کیس درج، کئی اراکین پارلیمنٹ کے خلاف بھی کی گئی ایف آئی آر

ایف آئی آر میں ذکر کیا گیا ہے کہ پتھراؤ اور لاٹھیوں کے استعمال سے سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین نے سیاسی فائدہ کے لیے قصداً بدامنی پھیلانے کی کوشش کی۔

<div class="paragraphs"><p>عمران خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پاکستان کے راولپنڈی میں اڈیالہ روڈ پر ہوئے احتجاجی مظاہرہ کے بعد پولیس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی بہنوں، کئی اراکین پارلیمنٹ اور تقریباً 1400 نامعلوم لوگوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ایف آئی آر بدھ کو اڈیالہ چیک پوسٹ کے انچارج سب-انسپکٹر کی شکایت پر درج کی گئی۔

پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین نے نظامِ قانون کو چیلنج پیش کیا، پتھراؤ کیا اور پولیس پر حملہ کیا، جس سے کم از کم 9 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔ ایف آئی آر میں قتل کی کوشش اور سرکاری کام میں رخنہ ڈالنے جیسی سنگین دفعات بھی شامل کی گئی ہیں۔


دراصل عمران خان کی پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف‘ (پی ٹی آئی) نے اڈیالہ جیل میں بند اپنے لیڈر سے ملاقات پر لگی پابندی کے خلاف پرامن مظاہرہ کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ انتظامیہ نے پورے ضلع میں دفعہ 144 نافذ کر دیا تھا، جس کے تحت 15 دنوں کے لیے کسی بھی طرح کی عوامی بھیڑ پر روک لگا دی گئی۔ سخت پابندیوں کے درمیان پولیس نے جیل کے باہر مظاہرہ کر رہے پارٹی لیڈران و کارکنان کو حراست میں لے لیا۔ ان میں عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خانم بھی شامل ہیں۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ موقع پر 41 مشتبہ افراد کو پکڑا گیا تھا، لیکن وہ بعد میں فرار ہو گئے، جبکہ کئی دیگر لوگ بھی جائے وقوع سے بھاگ نکلے۔

بہرحال، ایف آئی آر میں یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ پتھراؤ اور لاٹھیوں کے استعمال سے سرکاری اور پرائیویٹ گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین نے سیاسی فائدہ کے لیے قصداً بدامنی پھیلانے کی کوشش کی، تاکہ پنجاب کی علاقائی حکومت پر دباؤ بنایا جا سکے۔ دوسری طرف بین الاقوامی حقوق انسانی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے اس کارروائی کی سخت مذمت کی ہے۔ تنظیم نے اسے ناجائز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان میں پُرامن مظاہرہ کے حق کو دبانے کی مزید ایک مثال ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔