پی ایف تک آسان رسائی کے لیے حکومت لانے جا رہی ہے ’ای پی ایف او 3.0‘

ای پی ایف او 3.0 خاص طور پر ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن کے سسٹم کا ایک ڈیجیٹل اپ ڈیٹ ہے، جو مینوئل کام کو کم کرنے اور لاکھوں صارفین کے لیے سروس کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

ای پی ایف او دفتر / آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

اکثر ’ای پی ایف او‘ سروسز کے متعلق ملازمین کی شکایت دیکھی گئی ہے کہ انہیں کلیم (دعویٰ) کرنے میں تاخیر ہوتی ہے، زیادہ پیپر ورک (کاغذی کارروائی) اور کمپنی پر زیادہ انحصار کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام پریشانیوں کو ختم کرنے کیے لیے حکومت ای پی ایف او 3.0 لے کر آ رہی ہے، جو جلد ہی لانچ ہو سکتا ہے، جس کے بعد پی ایف تک رسائی مکمل طور پر آسان ہو جائے گی۔ آپ کا کلیم فوری طور پر سیٹل ہوگا، پیپر ورک بہت کم ہو جائے گا اور آجر پر انحصار بھی کم ہو جائے گا۔ آپ آسانی سے اے ٹی ایم اور یو پی آئی کی مدد سے پیسے نکال سکتے ہیں۔

ای پی ایف او 3.0 خاص طور پر ’ایمپلائز پراویڈنٹ فنڈ آرگنائزیشن‘ کے سسٹم کا ایک ڈیجیٹل اپ ڈیٹ ہے، جو مینوئل کام کو کم کرنے اور لاکھوں صارفین کے لیے سروس کی فراہمی میں بہتری لانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ آنے والے مہینوں میں اس کو مکمل طور پر فعال کیا جا سکتا ہے، جس میں کئی سہولیات پہلے ہی شروع کی جا چکی ہیں اور دیگر پر کام جاری ہے۔ سب سے بڑی تبدیلیوں میں سے ایک ’کلیم سیٹلمنٹ‘ کے حوالے سے ہے۔ ای پی ایف او نے کلیم کے آٹو سیٹلمنٹ کی توسیع کی ہے اور اس کی حد بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دی ہے۔ وِڈرال ریکویسٹ کا ایک بڑا حصہ اب آٹومیٹک طور پر اپروو کیا جا رہا ہے، جس سے وقت کی بچت ہو رہی ہے اور مینوئل اپروول کی ضرورت کم ہو رہی ہے۔


اس تبدیلی سے آجروں پر انحصار بھی کم ہو رہا ہے۔ پہلے ملازمت بدلنے پر پی ایف اکاؤنٹ میں پیسہ ٹرانسفر کرنے کے لیے کمپنی کی منظوری ضروری ہوتی تھی، جس کی وجہ سے تاخیر ہوتی تھی۔ نئے سسٹم کے تحت ایسے اکاؤنٹس جن کے ’کے وائی سی‘ ہو چکے ہیں، کے لیے ایسے کئی ٹرانسفر آٹومیٹک طریقے سے کیے جا رہے ہیں، جس سے ملازمین کو اپنے فنڈ آسانی سے ٹرانسفر کرنے کی سہولت مل رہی ہے۔

نئی تبدیلی کے تحت ایک اور اہم سہولت ڈیجیٹل پیمنٹ سسٹم کے ذریعے پی ایف نکالنے کی صلاحیت ہے۔ ای پی ایف او یو پی آئی کے ذریعہ وِڈرال کو فعال بنانے پر کام کر رہا ہے، جس سے موجودہ عمل کے مقابلے میں پیسہ براہ راست بینک اکاؤنٹ میں بہت تیزی سے جمع ہو سکے گا۔ اس کے ساتھ ہی کلیم فائل کرنے، ٹریک کرنے اور پیسہ نکالنے جیسی خدمات کو بہتر بنانے کے لیے ایک نیا موبائل ایپ پیش کیے جانے کی امید ہے، جس سے ’فزیکل پیپر ورک‘ یا دفتر جانے کی ضرورت مزید کم ہو جائے گی۔


ای پی ایف او 3.0 کے تحت پنشن سسٹم کو بھی یونیفائیڈ کیا جا رہا ہے۔ مستفید ہونے والوں کے لیے پنشن کی تیزی سے اور زیادہ یکساں تقسیم کو یقینی بنانے کے مقصد سے یونیفائیڈ پنشن پیمنٹ سسٹم پہلے ہی تمام دفاتر میں نافذ کیا جا چکا ہے۔ واضح رہے کہ پی ایف بچت تک رسائی میں تاخیر، تکنیکی خرابیوں اور انتظامی رکاوٹوں کے حوالے سے برسوں سے ملنے والی شکایات کے بعد اصلاحات کا مطالبہ اٹھایا گیا ہے۔ آٹومیٹک اور ڈیجیٹل ویریفکیشن کی طرف بڑھتے ہوئے، حکومت اس سسٹم کو روایتی بیوروکریسی کے بجائے بینکنگ پلیٹ فارم کی طرح کام کرنے کے قابل بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ حالانکہ اب بھی تمام سہولیات مکمل طور پر فعال نہیں ہوئی ہیں۔ یو پی آئی پر مبنی وِڈرال جیسی سروس اور نئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے کچھ حصے ابھی شروع کیے جا رہے ہیں، اور سسٹم فی الحال تبدیلی کے مرحلے میں ہے۔

تنخواہ دار ملازمین کے لیے ان تبدیلیوں کا مطلب ہنگامی صورتحال کے دوران رقم تک فوری رسائی، نوکری بدلتے وقت اکاؤنٹ میں رقم کی منتقلی میں آسانی اور آجروں یا ثالثوں پر کم انحصار ہو سکتا ہے۔ ساتھ ہی آسان رسائی سے پی ایف کے استعمال کے طریقے میں بھی تبدیلی آ سکتی ہے، کیونکہ یہ تشویش برقرار ہے کہ بار بار رقم نکالنے سے طویل مدتی ریٹائرمنٹ سیونگ متاثر ہو سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔