’تعمیر کے وقت کارروائی ہوتی تو مارکیٹ بند نہ ہوتی‘، میرٹھ سنٹرل مارکیٹ معاملہ پر سپریم کورٹ کی انتظامیہ کو سخت پھٹکار

جمعرات (9 اپریل) کو اترپردیش ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ کونسل نے بتایا کہ مارکیٹ کی 44 جائیدادوں کو مکمل طور سے سیل کر دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سپریم کورٹ نے غیرقانونی تعمیرات کے دوران غیر فعال رہنے پر سرکاری اداروں کی سخت سرزنش کی ہے۔ میرٹھ کے سنٹرل مارکیٹ علاقہ میں 44 عمارتوں کو سیل کیے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد عدالت نے کہا کہ اگر وقت پر کارروائی کی جاتی تو آج پوری مارکیٹ بند ہونے کی نوبت نہیں آتی۔ واضح رہے کہ 7 اپریل کو جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس کے وی وشوناتھن کی بنچ نے رہائشی زمین پر ہو رہی تجارتی سرگرمیوں کے لیے افسران کو سخت پھٹکار لگائی تھی۔

جمعرات (9 اپریل) کو اترپردیش ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ کونسل نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ کونسل نے بتایا کہ مارکیٹ کی 44 جائیدادوں کو مکمل طور سے سیل کر دیا گیا ہے۔ کونسل کے مطابق ان 44 تجارتی عمارتوں میں صرف شو روم اور تجارتی کمپلیکس ہی نہیں بلکہ 6 اسکول، 6 اسپتال اور 3 بینک بھی چل رہے تھے۔ ان تمام عمارتوں کو انتظامی کنٹرول میں لے لیا گیا ہے۔ میرٹھ انتظامیہ کی طرف سے بتایا گیا کہ اس نے انسانی بنیاد پر اسکول کے طلبہ اور اسپتال میں زیر علاج سنگین مریضوں کو دوسری جگہ منتقل کرا دیا ہے۔


سماعت کے دوران عدالت نے مارکیٹ کے ’سیٹ بیک‘ میں چل رہی دکانوں پر سخت موقف اختیار کیا۔ ’سیٹ بیک‘ اس جگہ کو کہتے ہیں جسے قوانین کے مطابق عمارت کے چاروں طرف خالی چھوڑنا لازمی ہوتا ہے۔ عدالت نے کہا کہ ’سیٹ بیک‘ کی زمین پر قبضہ کی گئی کسی بھی تعمیر کو ریگولرائز نہ کیا جائے۔ ایسے تمام غیر قانونی تعمیرات کو گرانے کے لیے انتظامیہ کو 2 ماہ کا وقت دیا گیا ہے۔ عدالت نے حکم دیا کہ عمارتوں کے مالکان کو نوٹس جاری کر کے انہیں خود غیر قانونی حصہ ہٹانے کا موقع دیا جائے۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو کونسل قانونی کارروائی کرتے ہوئے اسے منہدم کرے اور انہدام کا خرچہ بھی ان دکان مالکان سے وصول کیا جائے۔

عدالت نے جاننا چاہا کہ کیا قانوناً کسی تعمیر کو ریگولرائز کرنے کا امکان ہے۔ عدالت نے یہ بھی پوچھا کہ اگر میونسپل کونسل کے ضمنی قوانین کے تحت کچھ عمارتوں کو جرمانہ لے کر ریگولرائز کیا جا سکتا ہے تو اس پر تفصیلی رپورٹ داخل کی جائے۔ جب تک کسی رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ کون سی تعمیر قوانین کے دائرے میں آتی ہے تب تک کسی کو راحت نہ دی جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔