قومی خبریں

شہریت ایکٹ شہریت دینے کے لئے ہے چھیننے کے لئے نہیں: مختار عباس نقوی

مختار عباس نقوی نے کہا کہ وطن عزیز کی تقسیم کے بعد سیکولر ہندوستان جہاں اقلیتوں بشمول مسلمانوں کے لئے ’’جنت‘‘ ثابت ہوا وہیں اسلامی پاکستان اقلیتوں کا ’’جہنم‘‘ بن گیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

نئی دہلی: اس تمہید کے ساتھ کہ شہریت ایکٹ شہریت دینے کے لئے ہے چھیننے کے لئے نہیں، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے آج بظاہر خوفزدہ اقلیت سے کہا کہ ترمیم شدہ ایکٹ این سی آر سے کسی ہندستانی شہری کی شہریت کو خطرہ لاحق نہیں، اس لئے غلط پروپیگنڈے پر کوئی توجہ نہ دی جائے۔

Published: undefined

قومی اقلیتی کمیشن کے تحت یوم اقلیت پروگرام میں نقوی نے اس استدلال کے ساتھ کہ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اس لئے ستیہ میو جیہ تے کے ہاتھوں جھوٹ میوجیہ تے کا پٹخنی کھا کر اندھے منھ گرنا طے ہے، کہا کہ اقلیتین بشمول مسلمانان ہند ملک کی ترقی میں برابر کی حصہ دار ہیں اور انہیں این آرسی اور ترمیم شدہ شہریت ایکٹ کے محاذ پر ملک کو گمراہ کرنے والوں کو شکست دینا ہے۔

Published: undefined

ترمیم شدہ شہرت قانون کو ہندوستانی شہریوں سے جوڑنے کو صریح دھوکہ گردانتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہاں تک این آر سی کا تعلق ہے تو 1951 میں آسام میں شروع کیا جانے والا یہ عمل ابھی تک اپنے انجام کو نہیں پہنچا اور وہاں جن کے نام فہرست میں نہیں آئے وہ ٹریبونل اور عدالتوں میں اپیل کر سکتے ہیں۔ اس رخ پر حکومت بھی ان کی مدد کر رہی ہے۔

Published: undefined

شہریت ترمیم بل کو’’ انسانوں کی توہین‘‘ کے خلاف اور’’ انسانی احترام ‘‘ کے حق میں اٹھایا جانے والا انقلابی قدم قرار دیتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ وطن عزیز کی تقسیم کے بعد سیکولر ہندوستان جہاں اقلیتوں بشمول مسلمانوں کے لئے ’’جنت‘‘ ثابت ہوا وہیں اسلامی پاکستان اقلیتوں کا ’’جہنم‘‘ بن گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس فرق کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سیکولرزم اور رواداری ہندوستان کے ڈی این اے میں شامل ہے۔ اس موقع پر کمیشن کے قومی سربراہ غیورالحسن رضوی، کمیشن کے اراکین اور دیگر سننئیر ذمہ داران موجود تھے۔

Published: undefined

نقوی نے کہا کہ ہنر ہاٹ، غریب نواز روزگار یوجنا، سیکھو اور کماؤ، نئی منزل، نئی روشنی وغیرہ جیسے روزگار ترقیاتی اسکیموں کے ذریعہ گذشتہ پانچ برسوں میں آٹھ لاکھ سے زیادہ افراد کو ملازمت کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ پچھلے پانچ برسوں میں تین کروڑ بیس لاکھ اقلیتی طلبا کو مختلف وظائف دیئے گئے ہیں جس میں تقریباً 60 فی صد لڑکیاں شامل ہیں۔ نقوی نے کہا کہ وزیر اعظم پبلک ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ملک بھر میں ایسے علاقے جہاں اقلیتی طبقہ کے افراد اکثریت میں ہیں، وہاں بڑے پیمانے پر بنیادی ڈھانچے کی سہولیات، اسکول، کالج، آئی ٹی آئی، اسپتال، ہاسٹل، سدبھاؤ منڈپ، مشترکہ خدمات کے مراکز، ہنر ہب، رہائشی اسکول، مارکیٹ شیڈ وغیرہ تعمیر کیے گئے ہیں۔

Published: undefined

اس موقع پر نقوی نے جموں و کشمیر کے سرحدی ضلع راجوری کے ایک مشترکہ گھرانے کی بیٹی ارمم شمیم کو انعام دیا جنھوں نے اپنی صلاحیتوں کی بدولت ایک عظیم ریکارڈ قائم کیا ہے۔ راجوری ضلع کے دھنور گاؤں کے رہائشی ارمم شمیم نے محدود وسائل اور غربت کی حالت کے باوجود رواں سال معیاری آل انڈیا انسٹی آف میڈیکل سائنس (اے آئی آئی ایم ایس) میں داخلہ کا امتحان پاس کیا۔ وہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی گجر برادری کی پہلی لڑکی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined