قومی خبریں

وزیراعلیٰ سدارمیا نے وزیراعظم اور وزیر زراعت کو لکھا خط ، چنا کسانوں کو درپیش بحران کے بارے میں کیا آگاہ

قیمتوں میں کمی صرف بازار کی گڑبڑی نہیں ہے، یہ ایک انسانی بحران ہے جب اعلان شدہ ایم ایس پی زمین پر حقیقی خریداری میں تبدیل نہیں ہوتا ہے تو یہ کسانوں کا اس ادارہ جاتی ڈھانچے سے اعتماد ختم کردیتا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارمیا نے وزیراعظم نریندرمودی اور وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو خط لکھ کر کرناٹک میں چنا کسانوں کو درپیش سنگین بحران سے آگاہ کیا اور مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کرنے کی اپیل کی۔ وزیراعلیٰ سدارمیا نے سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر کہا کہ میں نے وزیر اعظم نریندرمودی اور مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان کو خط لکھ کر کرناٹک میں چنا کسانوں کو درپیش سنگین بحران کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ 5,875 روپے فی کوئنٹل کی کم از کم امدادی قیمت کے باوجود بازارقیمتیں ایم ایس پی سے کافی نیچے گرگئی ہیں، جس سے کسانوں کو مجبوری میں کم قیمت پر اپنی پیداوار بیچنا پڑرہی ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ میں نے مرکزی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ کسانوں کی آمدنی کے تحفظ اور بازارکو مستحکم کرنے کے لیے فوری طور پر پرائس سپورٹ اسکیم کے تحت خریداری شروع کرے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ’میں آپ کو کرناٹک کے لاکھوں چنا کسانوں کے لیے سنگین بحران کے اس وقت لکھ رہا ہوں، جن کی روزی روٹی موجودہ ربیع کے مارکیٹنگ سیزن کے دوران سنگین اور فوری بحران کا سامنا کر رہی ہے۔

Published: undefined

چنا کرناٹک میں دالوں کی اہم فصلوں میں سے ایک ہے، جس کی کاشت 9.24 لاکھ ہیکٹر میں کی جاتی ہے اور اس کی تخمینہ پیداوار 6.27 لاکھ میٹرک ٹن ہے۔ یہ دھارواڑ، گدگ، بیلگاوی، وجئے پورہ، کالابوراگی، یادگیر، بیدر، رائچور، کوپل، بلاری، چتردرگا، باگل کوٹ، داونگیرے اور چک منگلورو جیسے علاقوں کے کسانوں کی مدد کرتا ہے۔ ان کسانوں میں سے بہت سے چھوٹے اور معمولی کسان ہیں، جن کے لیے غیر یقینی موسمی حالات میں مہینوں کی کڑی محنت کے بعد چنے کی فصل آمدنی کا واحد ذریعہ ہے۔

Published: undefined

انہوں نے مزید لکھا کہ ’میں ریاست میں مارکیٹ کی موجودہ تشویشناک صورتحال کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ حکومت ہند کی جانب سے ربیع مارکیٹنگ سیزن 27-2026 کے لیے چنے کے لیے 5,875 روپے فی کوئنٹل کی ایم ایس پی کا اعلان کرنے کے باوجود کرناٹک کے بڑے اے پی ایم سی میں موجودہ بازارقیمتیں ام ایس پی سے کافی نیچے ہیں جب کہ ابھی فصل کی آمد بھی مکمل طور پر شروع نہیں ہوئی ہے۔ جنوری اور مارچ کے درمیان فصل کی کٹائی تیز ہونے کے ساتھ، قیمتوں میں مزید کمی کا حقیقی خدشہ ہے، جس سے دیہی عوام کی پریشانی بڑھ جائے گی‘۔

Published: undefined

قیمتوں میں یہ کمی صرف بازار کی گڑبڑی نہیں ہے۔ یہ ایک انسانی بحران ہے۔ جب اعلان شدہ ایم ایس پی زمین پر حقیقی خریداری میں تبدیل نہیں ہوتا ہے تو یہ کسانوں کا اس ادارہ جاتی ڈھانچے سے اعتماد ختم کردیتا ہے جوان کے تحفظ کے لیے بنایاگیا ہے۔ بہت سے کسان ان پٹ لاگت، قرض اور گھریلو ضروریات کے بوجھ سے دبے ہوئے ہیں۔ انہیں ٹھیک اسی وقت کم قیمتوں پرفصل بیچنے کے لیے مجبور کیا جارہا ہے جب سرکاری مداخلت کی اشد ضرورت ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined