
مڈ ڈے میل کی علامتی تصویر/ سوشل میڈیا
تمل ناڈو کی مشہور ’مڈ ڈے میل‘ اسکیم کے حوالے سے ایک اہم اور دلچسپ تجویز سامنے آئی ہے۔ ریاستی حکومت اب سرکاری اسکولوں کے طلباء کو ہفتے میں ایک روز ظہرانے میں چکن بریانی کھلانے کی اسکیم پر غور کر رہی ہے۔ ریاستی وزیر تعلیم برائے اسکول راج موہن نے اس خیال کو وزیر اعلی سی جوزف وجے کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس تجویز پر بات کرتے ہوئے وزیر تعلیم راج موہن نے تمل ناڈو میں اسکولوں کے تعلق سے غذائیت کی اسکیموں کی شاندار تاریخ کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے ہر بڑے سیاسی دور نے اپنے طریقے سے اسکولی غذائیت پروگرام کو مضبوط کیا ہے۔
انہوں نے یاد دلایا کہ ’کے کامراج‘ نے سب سے پہلے مڈ ڈے میل منصوبے کی شروعات کی تھی۔ اس کے بعد کالیگنار کروناندھی نے اس میں انڈے بھی شامل کیے، اور ایم جی آر نے اسے غذائیت سے بھرپور کھانے کے پروگرام میں تبدیل کیا اور جے للتا نے پورے ہفتے انڈے تقسیم کرنے کی اسکیم کو آگے بڑھایا۔ وزیر تعلیم نے کہا کہ ’’اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے ان کی خواہش ہے کہ اب سرکاری اسکولوں میں ہفتے میں ایک دن بچوں کو چکن بریانی دی جائے۔‘‘ ذرائع کے مطابق یہ تجویز فی الحال وزیر تعلیم سی جوزف وجے کے زیر غور ہے۔ حالانکہ اس تعلق سے اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے اور انتظامی سطح پر اس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تمل ناڈو کو ہمیشہ سے ملک میں اسکولی غذائیت پروگرام کا پرچم بردار تصور کیا جاتا رہا ہے۔ سابق وزیر اعلی کے کامراج کے ذریعہ شروع کی گئی اس ’مڈ ڈے میل اسکیم‘ نے پورے ملک میں فلاحی اسکیموں کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد آنے والی ہر حکومت نے کھانے کی غذائیت اور مینو میں بہتری کی ہے۔ اس ضمن میں ستمبر 2022 میں اس وقت کی ڈی ایم کے حکومت نے پرائمری اسکولوں کے طلباء کے لیے ’وزیر اعلی ناشتہ اسکیم‘ کی شروعات کی تھی۔ جس کے بعد ’پیرونتھلیور کامراجر بریک فاسٹ اسکیم‘ نام دیا تھا۔ مڈ ڈے میل کے ساتھ چلنے والی اس اسکیم نے یہ یقینی بنایا کہ بچوں کو اسکول میں 2 وقت کا غذائیت سے بھرپور کھانا ملے۔ اگر وزیر اعلی نے اس تجویز کو منظوری دے دی تو یہ ایک تاریخی تبدیلی ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ بچوں کی غذائیت کی سطح کو بہتر بنانے اور اسکولوں میں طلباء کی حاضری بڑھانے کے لیے شروع کی گئی فلاحی اسکیموں کو تقویت دینے کی ریاست کی پرانی روایت بھی جاری رہے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔