پاکستان کی 2 غیر منظور شدہ بیوٹی کریم ’گوری‘ اور ’چاندنی‘ سے متعلق ہندوستان نے جاری کیا نوٹس، جلد کے لیے بتایا نقصاندہ!
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’چاندنی وائٹننگ کریم‘ اور ’گوری بیوٹی کریم‘ میں بہت زیادہ ’ہیوی میٹلس‘ پائے گئے ہیں، جو مقررہ حد سے زیادہ ہیں۔ ان کے استعمال سے زہریلے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں۔

سنٹرل ڈرگز اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (سی ڈی ایس سی او) نے حال ہی میں پاکستان سے آنے والی غیر مجاز کاسمیٹک مصنوعات کی فروخت کے حوالے سے پبلک ہیلتھ الرٹ جاری کیا ہے۔ سی ڈی ایس سی او کی جانب سے جاری نوٹس میں جن 2 مصنوعات کی نشاندہی کی گئی ہے وہ وائٹننگ کریم ہے۔ ایک کا نام ہے ’چاندنی وائٹننگ کریم‘ اور دوسرے کا ’گوری بیوٹی کریم‘۔
’چاندنی وائٹننگ کریم‘ اور ’گوری بیوٹی کریم‘ کے حوالے سے ڈرگ ریگولیٹر نے کہا کہ ان کریموں میں بہت زیادہ ’ہیوی میٹلس‘ پائے گئے ہیں، جو مقررہ حد سے زیادہ ہیں۔ سی ڈی ایس سی او نے یہ بھی کہا کہ ان کریموں کے استعمال سے زہریلے اثرات پیدا ہو سکتے ہیں اور صحت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سرکاری نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ’’بغیر منظوری والی کاسمیٹک مصنوعات کے استعمال کے خلاف پبلک ہیلتھ الرٹ۔ صارفین کے ذریعہ استعمال کی جانے والی کاسمیٹک مصنوعات عام لوگوں کے لیے محفوظ ہونی چاہیے۔ ان کی تیاری اور درآمد کو ’ڈرگز اینڈ کاسمیٹکس ایکٹ 1940‘ اور ’کاسمیٹک رولز 2020‘ کے تحت ریگولیٹ کیا جاتا ہے۔‘‘
سرکاری نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’’کاسمیٹک مصنوعات کے معیارات ’بیورو آف انڈین اسٹینڈرز‘ (بی آئی ایس) کے ذریعہ جاری کیے جاتے ہیں۔ فروخت اور ڈسٹری بیوشن کے لیے، کاسمیٹکس بنانے کے لیے، اسٹیٹ لائسنسنگ اتھارٹی سے لائسنس لینا ضروری ہے۔ کاسمیٹکس کی درآمد کے لیے مصنوعاعت کو طے شدہ قوانین کے مطابق سنٹرل لائسنسنگ اتھارٹی کے پاس رجسٹر کرانا ضروری ہے۔‘‘
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’پاکستان میں بنی گوری بیوٹی کریم اور چاندنی وائٹننگ کریم کے پیش نظر صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ان مصنوعات کو نہ خریدیں۔ اگر خرید لیے ہیں تو ایسی یا اسی طرح کی نام والی کاسمیٹک مصنوعات کا استعمال نہ کریں۔ ساتھ ہی لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ ایسی کاسمیٹک مصنوعات ہی خریدیں اور استعمال کریں جن پر مینیوفیکچرنگ لائسنس نمبر، مینیوفیکچرر کی تفصیلات، بیچ نمبر، مینیوفیکچرنگ اور ایکسپائری کی تاریخ اور رجسٹریشن نمبر (درآمد شدہ کاسمیٹک کے معاملے میں) جیسی معلومات واضح طور پر دی گئی ہو۔‘‘
