قومی خبریں

چھاتروں کی گونج: ’اپنی زبان اور ثقافت سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ سوال پوچھتے رہیں‘، طلبا سے راہل گاندھی کی اپیل

راہل گاندھی نے نیٹ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ایم بی بی ایس سیٹوں میں حصہ داری کم ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کے طلبا کے مفادات سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔

<div class="paragraphs"><p>چنئی میں ’چھاتروں کی گونج‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، ویڈیو گریب</p></div>

چنئی میں ’چھاتروں کی گونج‘ سے خطاب کرتے ہوئے راہل گاندھی، ویڈیو گریب

 

لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی کا 10 اکتوبر کو تمل ناڈو کے چنئی میں شاندار استقبال کیا گیا۔ آئس لینڈ گراؤنڈ میں ’چھاتروں کی گونج‘ پروگرام کے لیے جب تک وہ پہنچتے، تب تک نوجوانوں کی زبردست بھیڑ جمع ہو چکی تھی۔ اسٹیج پر پہنچتے ہی راہل گاندھی نے طلبا اور نوجوانوں کا پُرجوش استقبال کے لیے شکریہ ادا کیا اور تمل ناڈو سے جڑے کچھ اہم ایشوز پر گفتگو کی۔ انہوں نے نیٹ (NEET)، تعلیم کے لیے فنڈ، ریاستی یونیورسٹیوں اور حد بندی کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت کے فیصلوں سے تمل ناڈو کے مفادات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔

راہل گاندھی نے طلبا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ تمل ناڈو کی زبان، ثقافت، تاریخ اور روایات پر حملہ کیا جا رہا ہے، جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے مودی حکومت پر ہندی تھوپنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ تمل زبان اور ثقافت کو کسی دوسری زبان یا ثقافت سے کمتر نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی کی زبان اور ثقافت پر حملہ کرنا ہندوستان، تمل ناڈو اور جمہوریت پر حملہ کرنے کے مترادف ہے۔ راہل نے اپنی تقریر کے دورا یہ بھی کہا کہ تجسس کی شروعات سوال پوچھنے سے ہوتی ہے اور سوال پوچھنا جمہوریت کی بنیاد ہے۔

راہل گاندھی نے نیٹ کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ تمل میڈیم سے تعلیم حاصل کرنے والے طلبا کی ایم بی بی ایس سیٹوں میں حصہ داری کم ہوئی ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کے طلبا کے مفادات سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔ انھوں نے نئی تعلیمی پالیسی (این ای پی) کے لیے ملنے والی رقم کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرکزی حکومت تمل ناڈو کو ملنے والی رقم روک رہی ہے، جو کہ تقریباً 3,300 کروڑ روپے ہے۔

راہل گاندھی نے تمل ناڈو کی ریاستی یونیورسٹیوں میں وائس چانسلروں کے عہدے خالی ہونے کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاست کی تقریباً 70 فیصد یونیورسٹیوں میں وائس چانسلر نہیں ہیں۔ ساتھ ہی الزام لگایا کہ گورنر کے ذریعہ یونیورسٹیوں میں آر ایس ایس سے وابستہ لوگوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ حد بندی معاملہ پر اپنی بات رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ اس سے تمل ناڈو کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور پارلیمنٹ میں ریاست کی آواز کمزور ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کے حقوق اور نمائندگی سے جڑا مسئلہ قرار دیا۔

راہل گاندھی نے طلبا سے مخاطب ہوتے ہوئے ایک خاص مشورہ دیا کہ وہ اپنے من میں چھپے سوالات ضرور پوچھیں، خاموش نہ رہیں۔ انھوں نے کہا کہ سوال پوچھنا تجسس اور ترقی کی بنیاد ہے۔ پیریار کی مثال دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیریار نے ہر چیز پر سوال اٹھائے تھے۔ جمہوریت میں سوال پوچھنا لوگوں کا حق ہے اور آئین اس حق کی حفاظت کرتا ہے۔ انہوں نے طلبا سے اپیل کی کہ وہ اپنی زبان، ثقافت اور تاریخ سے جڑے رہنے کے ساتھ ساتھ سوال پوچھتے رہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔