ہندوستان اب جمہوری ملک نہیں رہا، یہاں مودی-شاہ کی آمریت چل رہی ہے: پرینکا گاندھی
پرینکا نے کہا کہ ٹرینیں اور میٹرو روک دیتے ہیں، انٹرنیٹ بند کر دیے جاتے ہیں اور جگہ جگہ چیک پوسٹس قائم کر دیتے ہیں۔ اگر یہ الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے انتخابات میں دھاندلی کا خوف نہیں تو پھر کیا ہے؟

دہلی پولیس کے ذریعہ جین-زی طبقہ کو جنتر منتر جانے سے روکنے اور ریل-میٹرو خدمات کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ سروس بند کرنے پر کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے مرکز میں برسراقتدار طبقہ کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس حکومت میں ہندوستان اب جمہوری ملک نہیں رہا، یہاں مودی-شاہ کی آمریت چل رہی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری پوسٹ میں پرینکا گاندھی نے جارحانہ رخ اختیار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’پہلے وہ 254 اراکین پارلیمنٹ کے ساتھ مار پیٹ کرتے ہیں اور انہیں مکمل طور پر غیر قانونی طریقے سے حراست میں لیتے ہیں، اس طرح ان کے بنیادی آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس کے بعد وہ قومی راجدھانی کا محاصرہ کر لیتے ہیں، اسے بیریکیڈ لگا کر چاروں طرف سے بند کردیتے ہیں، ٹرینیں اور میٹرو سروس روک دیتے ہیں، انٹرنیٹ بند کر دیتے ہیں اور جگہ جگہ چیک پوسٹس قائم کردیتے ہیں۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا کہ ’’احتجاج کرنے کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرنے والے نوجوان مردوں اور خواتین کے ساتھ مار پیٹ کی جاتی ہے اور انہیں حراست میں لے لیتے ہیں۔ اگر یہ اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ انہوں نے (مودی حکومت نے) الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے انتخابات میں دھاندلی کی ہے اور وہ اس خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کی حکومت کے غیر قانونی ہونے کا پردہ فاش ہو رہا ہے، اور ان سے جوابدہی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، تو پھر اور کیا ہے؟‘‘
دراصل جین-زی طبقہ نے آج ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جنتر منتر پر مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انھیں کئی سماجی و سیاسی تنظیموں کی حمایت بھی حاصل تھی، لیکن دہلی پولیس نے اس مظاہرہ کی اجازت نہیں دی۔ اس کے باوجود نوجوان طبقہ مختلف علاقوں سے جنتر منتر کی طرف بڑھے، جنھیں پولیس نے روک دیا۔ صبح سے شام تک تقریباً 3500 لوگوں کو حراست میں لیا گیا، جن میں سابق وزرائے اعلیٰ ممتا بنرجی، پینارائی وجین، اروند کیجریوال کے علاوہ کئی دیگر سرکردہ سیاسی و سماجی لیڈران بھی شامل ہیں۔ طلبا و نواجوں کی بڑی تعداد کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ہے، جنھیں مختلف مقامات پر رکھا گیا ہے۔ اسی کارروائی کے خلاف پرینکا گاندھی نے آواز اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ مودی-شاہ نے ہندوستان میں جمہوریت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’ہندوستان اب جمہوریت نہیں رہا۔ یہاں نریندر مودی اور امت شاہ کی قیادت میں آمریت چل رہی ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ لکھتی ہیں کہ ’’جمہوریت کو تباہ کرنے کے لیے ان کے ساتھ ملی بھگت کرنے والے تمام لوگ ملک سے غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
