
نئی دہلی: مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے نام سے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا وہ سرکلر فرضی قرار دیا گیا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں دسویں اور بارہویں جماعت کے بورڈ امتحانات منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ امتحانات منسوخ نہیں کیے گئے بلکہ موجودہ حالات کے پیش نظر چند ممالک میں عارضی طور پر ملتوی کیے گئے ہیں۔
Published: undefined
وائرل سرکلر میں کہا گیا تھا کہ عالمی غیر معمولی حالات اور ایران۔اسرائیل تنازع کے سبب مشرقِ وسطیٰ میں سی بی ایس ای کے باقی ماندہ زبان کے پرچے اور سات مارچ کو مقرر سماجی علوم کا امتحان منسوخ کر دیا گیا ہے اور طلبہ کو داخلی جائزے اور پری بورڈ کی بنیاد پر نمبر دے دیے جائیں گے۔ تاہم بورڈ نے اس دعوے کو مکمل طور پر گمراہ کن قرار دیا ہے۔
سی بی ایس ای کے مطابق رواں سال مجموعی طور پر 43 لاکھ 67 ہزار 870 طلبہ بورڈ امتحانات میں شریک ہیں۔ دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات 17 فروری سے ہندوستان سمیت 26 ممالک میں شروع ہوئے تھے۔ پہلے دن دسویں جماعت کا ریاضی اور بارہویں جماعت کا بایو ٹیکنالوجی کا پرچہ منعقد ہوا تھا۔ اب تک بیشتر امتحانات پُرامن طور پر مکمل ہو چکے ہیں۔
Published: undefined
بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ بحرین، ایران، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں دو مارچ کو مقرر امتحانات عارضی طور پر ملتوی کیے گئے ہیں۔ یہ فیصلہ خطے میں کشیدگی اور سکیورٹی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔ نئی تاریخوں کا اعلان حالات کا جائزہ لینے کے بعد کیا جائے گا۔
امتحانی نگران ڈاکٹر سنیم بھاردواج نے کہا ہے کہ تین مارچ کو صورتِ حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا اور پانچ مارچ سے طے شدہ امتحانات کے بارے میں مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔ بورڈ نے طلبہ، والدین اور اسکولوں سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ویب سائٹ اور مستند ذرائع سے معلومات حاصل کریں۔
Published: undefined
سی بی ایس ای نے خبردار کیا ہے کہ افواہیں پھیلانا قابلِ تعزیر عمل ہو سکتا ہے اور سائبر ذرائع سے غلط معلومات عام کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔ متعلقہ ممالک میں ہندوستانی سفارت خانوں اور قونصل خانوں کو بھی امتحانات ملتوی کیے جانے کی باضابطہ اطلاع دے دی گئی ہے تاکہ طلبہ کو درست رہنمائی فراہم کی جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined