قومی خبریں

نوئیڈا حادثہ: یوراج کی گاڑی چوتھے دن برآمد، بلڈر کو جیل بھیجا گیا

منگل کو جب این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے ایک گرے گرینڈ وٹارا کار کو نالے سے نکالا تو وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>

تصویر بشکریہ آئی اے این ایس

 

نوئیڈا کے سیکٹر 150 میں 27 سالہ انجینئر یووراج مہتا کی موت نے پورے ملک کی سرکاری مشینری اور انتظامی بے حسی کو کٹگھرے میں کھڑا کر دیا ہے ۔ انتظامیہ کو اس کار کو بازیافت کرنے میں پورے چار دن یعنی تقریباً 90 گھنٹے لگے جس میں یوراج جمعہ کی رات گروگرام سے اپنے گھر کے لیے روانہ ہوا تھا۔

Published: undefined

منگل کو جب این ڈی آر ایف اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیموں نے ایک گرے گرینڈ وٹارا کار کو موت کے اس نالے سے نکالا تو وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم تھیں ۔ یہ وہی کار ہے جس پر یوراج دو گھنٹے سے زیادہ کھڑا تھا اور ٹارچ سے مدد کی التجا کرتا رہا ۔ پولیس، فائربریگیڈ اور امدادی اداروں کے لوگ جائے وقوعہ پر موجود تھے لیکن ڈوبنے والے نوجوان کو بچانے کے لیے کسی نے پانی میں نہیں چھلانگ لگائی۔

Published: undefined

اگر اس رات ایک ریسکیو ٹیم نیچے جاتی تو شاید یوراج آج زندہ ہوتا، جس نے دو گھنٹے سے زیادہ ٹارچ کے ذریعہ مدد مانگی تھی۔ متوفی کے والد راجکمار مہتا کا درد نظام کے لیے سب سے زیادہ ت بڑا  دھچکا ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر تیراک اور کشتی نہیں تھی تو ٹیم کو وہاں کیوں بھیجا گیا۔ اگر ٹیم کے پاس تیراک ہوتے تو شاید وہ بچ جاتا۔

Published: undefined

گوتم بدھ نگر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ میدھا روپم کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں چار دن لگے جہاں ایک ہونہار نوجوان کا قتل ہوا۔ میڈیا نے ان سے سوال کیا تو وہ خاموش رہیں۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا عوامی نمائندوں کو کرنا پڑا۔ رکن پارلینٹ  مہیش شرما اور علاقائی  رکن اسمبلی تیج پال ناگر کو بھی چار دن بعد جائے وقوعہ پر دیکھا گیا۔

Published: undefined

وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے سخت موقف کے بعد نوئیڈا اتھارٹی کے سی ای او کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔ اس معاملے کے اہم ملزم اور ایم زیڈ وش ٹاؤن کے مالک ابھے کمار کو ہریانہ کے پلوال میں گرفتار کیا گیا ۔ انہیں ایک دن کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ اے ڈی جی بھانو بھاسکر کی سربراہی میں ایس آئی ٹی نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined