
کولکاتا: کلکتہ ہائی کورٹ نے سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی رہنما ممتا بنرجی کی جانب سے بھوانی پور اسمبلی حلقہ کے انتخابی نتائج کو چیلنج کرنے والی عرضی پر ابتدائی سماعت کرتے ہوئے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری سے جواب طلب کیا ہے۔ سماعت کے دوران جسٹس گورانگ کانت نے غیر معمولی شفافیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ انکشاف بھی کیا کہ ان کے بڑے بھائی بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی ترجمان ہیں اور اس وجہ سے اس معاملے میں کسی فریق کو اگر کوئی اعتراض ہو تو وہ پیشگی طور پر اپنی رائے ظاہر کر سکتا ہے۔
Published: undefined
بار اینڈ بنچ کی رپورٹ کے مطابق جسٹس گورانگ کانت نے کہا کہ وہ مکمل انکشاف کے بعد ہی معاملے کی سماعت کریں گے تاکہ بعد میں کسی قسم کا اعتراض پیدا نہ ہو۔ ممتا بنرجی کی جانب سے پیش ہونے والے سینئر وکیل کلیان بندوپادھیائے نے عدالت کو بتایا کہ انہیں جج کی سماعت پر کوئی اعتراض نہیں ہے اور انہیں عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔ اس کے بعد انہوں نے عرضی کے نکات پر تفصیلی دلائل پیش کیے۔
Published: undefined
عدالت نے ابتدائی طور پر یہ قرار دیا کہ عوامی نمائندگی قانون کے تحت دائر کی گئی عرضی قانونی تقاضوں کے مطابق ہے، اس لیے اسے اس مرحلے پر خارج کرنے کی کوئی بنیاد موجود نہیں۔ عدالت نے مدعا علیہان کو چار ہفتوں کے اندر جواب داخل کرنے کی ہدایت دی، جبکہ اس کے بعد جواب الجواب داخل کرنے کے لیے مزید چار ہفتوں کی مہلت دی گئی ہے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت 12 ہفتوں بعد مقرر کی گئی ہے۔
Published: undefined
ممتا بنرجی نے اپنی عرضی میں الزام عائد کیا ہے کہ بھوانی پور اسمبلی حلقہ میں ووٹوں کی گنتی کے دوران سنگین بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ان کے وکیل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ متعلقہ ریٹرننگ افسر مفادات کے تصادم کے باوجود تعینات کیا گیا تھا اور اس افسر کے خلاف پہلے بھی متعدد شکایات سامنے آ چکی ہیں۔ عرضی میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ خصوصی نظرثانی کے عمل (ایس آئی آر) کے دوران بڑی تعداد میں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے غیر قانونی طور پر حذف کیے گئے۔
Published: undefined
عدالت نے اہم حکم جاری کرتے ہوئے بھوانی پور حلقہ کے تمام پولنگ مراکز میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں، ووٹر ویریفائی ایبل پیپر آڈٹ ٹریل مشینوں اور ووٹوں کی گنتی کے مرکز کی نگرانی کیمروں کی تمام ریکارڈنگ محفوظ رکھنے کی ہدایت دی ہے۔ جسٹس گورانگ کانت نے واضح کیا کہ عدالت کی اجازت کے بغیر ان ریکارڈوں کو نہ تو تلف کیا جا سکے گا اور نہ ہی ان میں کوئی تبدیلی کی جا سکے گی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined