
شہریت ترمیم قانون کے خلاف ملک بھر میں احتجاج جاری ہے، کئی مقامات پر پرتشدد احتجاج ہو رہے ہیں، پرتشدد مظاہروں سے اتر پردیش سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، ساتھ ہی ریاست میں پولس کارروائی پر سوال کھڑے کیے جا رہے ہیں، اس دوران اتر پردیش کے لکھنؤ میں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا ہے، جس سے پولیس پر سنگین سوال کھڑے ہو رہے ہیں، لکھنؤ میں انگریزی روزنامہ ’دی ہندو‘ کے صحافی عمر رشید کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا، پولیس حراست سے چھوٹنے کے بعد صحافی عمر رشید نے جو آپ بیتی سنائی ہے اسے سن کر ہر کوئی دنگ ہے۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST
صحافی عمر رشید نے اپنے ساتھ پیش آئے واقعے کا ذکر کیا ہے جو پولیس کو سوالوں کے گھیرے میں کھڑا کرتا ہے، انہوں نے بتایا کہ وہ یوپی حکومت کے ذریعہ بلائی گئی پریس کانفرنس کرنے گئے تھے، انہوں نے بتایا کہ جب وہ بی جے پی دفتر کے پاس ڈھابے پر بیٹھ کر کچھ کھا رہے تھے، تبھی چار پولیس اہلکار سادہ وردی میں وہاں پہنچے اور انہیں اور ان کے ساتھ بیٹھے مقامی کارکن رابن ورما کو حراست میں لے لیا۔ اس کے بعد انہیں قریبی حضرت گنج پولیس تھانے لے جایا گیا، عمر رشید نے بتایا کہ پولیس اہلکاروں نے ان کے فون بھی چھین لئے اور انہیں کسی کو بھی فون کرنے کی اجازت نہیں دی۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST
صحافی عمر رشید نے بتایا کہ پولیس اسٹیشن میں انہیں ایک کمرے میں لے جایا گیا، انہوں نے بتایا کہ کمرے میں پولیس اہلکاروں نے رابن ورما کو پیٹنا شروع کر دیا۔ عمر رشید نے بتایا کہ رابن کی چمڑے کی بیلٹ سے پٹائی کی گئی اور تھپڑ بھی مارے گئے، رشید کہتے ہیں کہ جب انہوں نے خود کو پولیس تھانے لائے جانے پر سوال کیا تو پولیس اہلکاروں نے انہیں خاموش رہنے کی نصیحت دی۔ ساتھ ہی آئی پی سی کی دفعہ 120 بی کے تحت مقدمہ درج کرنے کی دھمکی بھی دی۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST
پوچھ گچھ کے دوران پولیس نے صحافی عمر رشید پر مظاہرہ کے دوران جائیداد تباہ کرنے کا الزام لگایا، رشید کہتے ہیں کہ جب انہوں نے بتایا کہ وہ صحافی ہیں اور پولیس اہلکاروں کو اپنا آئی کارڈ دکھایا تو انہوں نے کہا کہ وہ اپنی صحافت اپنے پاس رکھیں۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST
رشید نے بتایا کہ ان کے کشمیری ہونے پر بھی پولیس اہلکاروں نے سوال کیے، پولیس اہلکاروں نے پوچھا کہ بتا تو نے کشمیری لوگوں کو کہاں چھپا کر رکھا ہے، صحافی نے کہا کہ ایک پولیس اہلکار نے انہیں دھمکاتے ہوئے کہا کہ اگر میں نے ان کے سوالوں کے جواب نہیں دیئے تو وہ ان کی داڑھی ایک ایک بال نوچ لے گا۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST
صحافی رشید کے مطابق پولیس نے انہیں رات 8.30 بجے تک ایک تھانے میں بٹھائے رکھا، انہوں نے بتایا کہ جب ان کی حراست کے سلسلے میں وزیر اعلی دفتر سے فون آیا تو انہیں پولیس نے چھوڑا، رشید نے بتايا کہ اس کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان سے اپنے رویے کے لئے معافی بھی مانگی۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 21 Dec 2019, 6:30 PM IST