امریکہ نے ’آبنائے ہرمز‘ سے نکال لیے 10 کروڑ بیرل تیل، ٹرمپ کا حیران کن دعویٰ
ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’گزشتہ ماہ میں نے اپنی عظیم امریکی فوج کو آبنائے ہرمز کے راستے تیل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کی مدد کے لیے ایک خفیہ مشن چلانے کا حکم دیا تھا۔‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو لے کر بڑا دعویٰ کیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایک خفیہ فوجی مشن چلا کر 10 کروڑ بیرل سے زائد تیل آبنائے ہرمز کے راستے عالمی بازار تک پہنچایا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس مہم کے دوران 200 سے زائد تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب رہے۔ ٹرمپ نے یہ معلومات اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ اور بعد میں ایک پریس بریفنگ کے دوران شیئر کی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ مہم انتہائی خفیہ طریقے سے چلائی گئی تھی۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے ’ٹروتھ سوشل‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ انہوں نے امریکی فوج کو تیل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کی مدد کے لیے ایک خفیہ مشن چلانے کا حکم دیا تھا۔ ٹرمپ نے لکھا کہ ’’گزشتہ ماہ میں نے اپنی عظیم امریکی فوج کو آبنائے ہرمز کے راستے تیل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کی مدد کے لیے ایک خفیہ مشن چلانے کا حکم دیا تھا۔‘‘ انہوں نے آگے دعویٰ کیا کہ اس مہم کے نتیجے میں 10 کروڑ بیرل سے زائد تیل عالمی بازار تک پہنچ سکا اور 200 سے زائد تجارتی جہاز محفوظ طریقے سے اس راستے گزرے۔
وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکہ طویل عرصے سے آبنائے ہرمز سے لاکھوں بیرل تیل نکال رہا تھا اور ایران اس سے لاعلم تھا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ’’اب میں یہ بات بتا سکتا ہوں، جو پہلے کسی کو نہیں معلوم تھا۔ ہم لاکھوں بیرل تیل نکال رہے تھے اور کسی کو اس کا علم نہیں تھا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’آپ جانتے ہیں کسے اس کے متعلق علم نہیں تھا؟ کم از کم ایران کو اب تک نہیں۔‘‘
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ حال ہی میں ایک رات 22 جہازوں کو بغیر لائٹ کے محفوظ طریقے سے آبنائے ہرمز سے نکالا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق ہم نے دیر رات 22 جہازوں کو بغیر کسی روشنی کے وہاں سے نکالا، کیونکہ ان کے پاس رڈار نہیں تھا۔ ہم نے ان کے رڈار سسٹم کو مکمل طور سے غیر فعال کر دیا تھا۔ حالانکہ ٹرمپ کے اس دعوے پر امریکی فوج کی جانب سے کوئی آفیشیل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی کوششوں کی وجہ سے عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں کنٹرول میں رہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگر یہ مہم نہیں چلائی جاتی تو خام تیل کی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی تھیں، لیکن امریکی کارروائی کی وجہ سے قیمتیں 90 ڈالر فی بیرل سے نیچے بنی رہیں۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ نے مئی کی شروعات میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو سیکورٹی دینے کے لیے ’پروجیکٹ فریڈم‘ نام سے ایک فوجی مہم شروع کی تھی۔ حالانکہ یہ مہم ایک روز بعد ہی روک دی گئی تھی۔ بعد میں امریکی میڈیا میں ایسی خبریں آئیں کہ اس مشن کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب امریکی سنٹرل کمانڈ نے اس وقت میڈیا میں آئی ان خبروں کی تردید کی تھی، جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی بحریہ تجارتی جہازوں کا اسکارٹ یا مدد فراہم کر رہی ہے۔ سنٹرل کمانڈ نے واضح کیا تھا کہ بحریہ کے ذریعہ تجارتی جہازوں کا اسکارٹ کرنے یا خصوصی مدد فراہم کرنے سے متعلق خبریں درست نہیں ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
