اقوام متحدہ میں پاکستان اور چین کو جھٹکا، پاس نہیں ہوئی بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد قرار دینے کی تجویز
سلامتی کونسل کے واقعہ نے چین کی اس پالیسی کی بھی یاد دلائی ہے جب اس نے کئی بار ہندوستان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو روک دیا تھا۔ چین سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اس کے پاس ویٹو پاور بھی ہے۔

اقوام متحدہ سلامتی کونسل (یو این ایس سی) میں پاکستان اور چین کو ایک بار پھر منہ کی کھانی پڑی ہے۔ دونوں ممالک بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور مجید بریگیڈ کو دہشت گرد اعلان نہیں کرا پائے۔ امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے بی ایل اے اور اس کی اتحادی یونٹ مجید بریگیڈ کو اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کرنے کی تجویز کو روک دیا۔ یہ تجویز پاکستان اور چین نے مشترکہ طور پر گزشتہ سال ستمبر میں سیکورٹی کونسل کی 1267 القاعدہ پابندی کمیٹی کے سامنے پیش کی تھی۔
سفارتی ذرائع کی مانیں تو رواں ماہ اقوام متحدہ میں اس تجویز پر غور کیا گیا لیکن سلامتی کونسل کے 3 مستقل اور ویٹو کا اختیار رکھنے والے ممالک امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے اسے آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس سے پاکستان اور چین کی وہ کوشش فی الحال کامیاب نہیں ہوسکی جس کے تحت دونوں تنظیموں کو بین الاقوامی ممنوعہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا جاتا۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل نمائندہ عاصم احمد نے حال ہی میں سلامتی کونسل کے اجلاس میں دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان کی سر زمین پر کئی دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ اسلامک اسٹیٹ خراسان (آئی ایس آئی ایل-کے)، القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ای ٹی آئی ایم)، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ جیسی تنظیمیں افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے آپریٹ ہو رہی ہیں۔
احمد نے کہا تھا کہ افغانستان میں 60 سے زائد ایسے دہشت گرد کیمپ موجود ہیں جہاں سے سرحد پار دراندازی اور حملوں کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان اور چین نے مشترکہ طور سے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کو ممنوعہ قرار دینے کی تجویز پیش کی ہے اور امید ہے کہ کونسل اس پر جلد ہی کارروائی کرے گی۔
پاکستان فی الحال 26-2025 کی میعاد کے لیے اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے۔ اس کے علاوہ وہ سلامتی کونسل کی 1988 طالبان پابندی کمیٹی کا نائب صدر بھی رہا ہے اور دہشت گردی مخالف کمیٹی (سی ٹی سی) کا نائب صدر بھی ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان اپنے سفارتی اثرات کا استعمال کرتے ہوئے بی ایل اے اور مجید بریگیڈ کے خلاف بین الاقوامی کارروائی کے مطالبے کو اٹھاتا تھا۔ حالانکہ مغربی ممالک کی مخالفت کی وجہ سے وہ تجویز فی الحال آگے نہیں بڑھ سکی۔
تازہ پیش رفت نے چین کی اس پالیسی کی بھی یاد دلائی ہے جب اس نے کئی بار ہندوستان کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز کو روک دیا تھا۔ چین، سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اس کے پاس ویٹو پاور ہے۔ اس کے ذریعہ چین، ہندوستان اور اس کے اتحادی ممالک کے ذریعہ پاکستان حامی دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کو 1267 پابندی والی فہرست میں شامل کرنے کی کئی تجاویز کو روکتا رہا ہے۔ خاص طور پر جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کو عالمی دہشت گرد اعلان کئے جانے کی تجویز پر چین نے برسوں تک تکنیکی روک لگائے رکھی تھی۔ بعد میں عالمی دباؤ بڑھنے پر چین کو اپنا رُخ تبدیل کرنا پڑا۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
