قومی خبریں

’اسے دفنا دو یا کہیں پھینک دو، جو کرنا ہے کرو‘، عصمت دری اور قتل کے ملزم پربھاس منڈل سے اس کی ماں بھی سخت ناراض

پربھاس منڈل کی ماں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’’ایک ماں ہونے کے ناطے درد تو ہوتا ہے۔ لیکن اس درد کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس نے جو کیا اسی کی وجہ سے اس کی موت ہوئی اور میں اسی بات سے مطمئن ہوں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>میڈیا سے بات کرتی ہوئی پربھاس منڈل کی ماں سندھیا منڈل، ویڈیو گریب</p></div>

میڈیا سے بات کرتی ہوئی پربھاس منڈل کی ماں سندھیا منڈل، ویڈیو گریب

 

مغربی بنگال کے جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے بروئی پور عصمت دری اور قتل کے کلیدی ملزم پربھاس منڈل پولیس انکاؤنٹر میں مارا جا چکا ہے۔ انکاؤنٹر کے بعد پولیس اس کے گھر پہنچی۔ وہاں بیٹے کی موت کی اطلاع اس کی ماں کو دی تو انہوں نے نہ صرف اسپتال جانے سے انکار کر دیا، بلکہ یہ بھی کہا کہ وہ اس کی لاش لینے نہیں جائیں گی۔ انہوں نے پولیس سے کہا کہ لے جاؤ اسے دفنا دو یا کہیں بھی پھینک دو جو کرنا ہے کرو۔ ان کا کہنا تھا کہ بیٹا نے جو کیا اسی کا بدلا اسے ملا ہے۔

واضح رہے کہ بروئی پور میں نابالغ لڑکی سے عصمت دری اور قتل کے معاملے میں کلیدی ملزم پربھاس منڈل بدھ کی صبح پولیس انکاؤنٹر میں مارا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ’کرائم سین ری کری ایشن‘ کے دوران پولیس اہلکار کی بندوق چھین کر بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا۔ جوابی کارروائی میں اسے گولی لگی اور اسپتال لے جانے کے بعد ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔

دوسری جانب انکاؤنٹر کے بعد پربھاس منڈل کی ماں سندھیا منڈل کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ پولیس جب گھر آئی تو کیا ہوا؟ انہوں نے کہا کہ ’’وہ آئے اور مجھ سے پوچھا کہ کیا آپ کے بیٹے کا نام پرکاش منڈل ہے؟ میں نے کہا ہاں۔ پھر انہوں نے کہا کہ آپ کے بیٹے کی موت ہو گئی ہے۔ کیا آپ اسے دیکھنا چاہتی ہیں؟ وہ اسپتال میں ہے، آپ جا کر اسے دیکھ سکتی ہیں۔ لیکن میں اسے اب دیکھنا نہیں چاہتی۔‘‘ سندھیا منڈل نے مزید کہا کہ ’’اسے دیکھ کر میں کیا کروں گی؟ اور مجھ میں وہاں جانے کی بھی طاقت نہیں ہے۔ میرا گلا خشک ہو گیا ہے... میں ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی ہوں۔‘‘

میڈیا نے جب ان سے پوچھا کہ کیا آپ کو اپنے بیٹے کی موت کا افسوس نہیں ہے؟ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’ایک ماں ہونے کے ناطے درد تو ہوتا ہے۔ لیکن اس درد کا اب کوئی مطلب نہیں ہے۔ اس نے جو کیا اسی کی وجہ سے اس کی موت ہوئی اور میں اسی بات سے مطمئن ہوں۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ لوگوں میں سے کوئی اس کی لاش لینے جائے گا؟ تو انہوں نے کہا کہ ’’نہیں کوئی نہیں جائے گا اور میں بھی نہیں جا سکتی۔ میں اسے دیکھنا بھی نہیں چاہتی۔ بالکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی۔ اسے لے جاؤ، دفنا دو، کہیں بھی پھینک دو یا جو کرنا ہے کرو۔ ہماری طرف سے کوئی نہیں جائے گا۔‘‘ ایک دیگر سوال کے جواب میں پربھاس منڈل کی ماں نے کہا کہ ’’وہ ہماری بات کبھی نہیں سنتا تھا۔ خاص کر اپنی ماں کی تو بالکل نہیں سنتا تھا۔ وہ نشہ کرتا تھا۔ اس لیے اب اس کے بارے میں میرے پاس کہنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ پربھاس منڈل اسی معاملے کا کلیدی ملزم تھا، جس میں 4 جولائی کو ایک نابالغ لڑکی لاپتہ ہو گئی تھی۔ اگلے روز سورجیاپور ہاٹ علاقے میں ایک بورے کے اندر اس کی لاش ملی تھی۔ اس واقعہ کے بعد علاقے میں شدید غم و غصہ پھیل گیا تھا۔ مقامی لوگوں نے بروئی پور-جے نگر روڈ جام کر دیا تھا۔ کئی جگہوں پر ٹائر جلائے گئے اور پولیس کی گاڑیوں میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ لڑکی کی لاش ملنے کے کچھ گھنٹے بعد مشتعل ہجوم نے اس معاملے میں شامل ہونے کے شبہ میں ایک شخص کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا تھا۔ بعد میں اس کی شناخت اندرجیت منڈل کے طور پر ہوئی۔ پولیس نے اس معاملے میں اب تک 3 لوگوں کو گرفتار کیا ہے۔ معاملے کی تحقیقات کے لیے 6 رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔