علامتی تصویر اسٹاک مارکیٹ
مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے آج پارلیمنٹ میں بجٹ پیش کیا، جو شیئر بازار کو بالکل بھی پسند نہیں آیا اور مارکیٹ میں کہرام مچ گیا۔ اتوار کو بی ایس ای سینسیکس 1546.84 پوائنٹس (1.88 فیصد) کی بھاری گراوٹ کے ساتھ 80722.94 پوائنٹس پر بند ہوا۔ جبکہ این ایس ای کا نفٹی 50 انڈیکس 495.20 پوائنٹس (1.96 فیصد) کے نقصان کے ساتھ 24825.45 پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔
Published: undefined
واضح رہے کہ بجٹ شروع ہوتے ہی بازار نے تیزی دکھائی، کچھ لمحے کے لیے تیزی سے چڑھا تھا، لیکن جب اس میں گراوٹ آنی شروع ہوئی تو اس نے سرمایہ کاروں کو خون کے آنسو رلا دیا۔ اس گراوٹ کی وجہ سے شیئر بازار سرمایہ کاروں کے 10 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ ڈوب گئے۔ اگر سینسیکس اور نفٹی کی بات کریں تو اتوار کو سینسیکس کی 30 میں سے صرف 3 کمپنی کے شیئر ہی ہرے نشان پر بند ہوئے اور باقی کی تمام 27 کمپنیاں سرخ نشان پر بند ہوئے۔ اسی طرح آج نفٹی کی 50 میں سے صرف 6 کمپنیوں کے شیئر ہی تیزی کے ساتھ بند ہوئے اور باقی کی تمام 44 کمپنیوں کے شیئر نقصان کے ساتھ بند ہوئے۔
Published: undefined
دراصل فیوچر اینڈ آپشنز (ایف اینڈ او) پر ایس ٹی ٹی یعنی سیکورٹیز ٹرانزیکشن ٹیکس میں تقریباً 60 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے، جو شیئر بازار کے لیے جھٹکا ثابت ہوا ہے۔ پہلے فیوچرز پر ایس ٹی ٹی 0.0125 فیصد تھا جسے اب بڑھا کر 0.02 فیصد کر دیا گیا۔ اسی طرح آپشنز پر ایس ٹی ٹی پریمیم کا 0.0625 فیصد تھا جو اب بڑھ کر 0.1 فیصد ہو گیا ہے۔ یعنی دونوں صورتوں میں تقریباً 60 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے ہائی فریکوئنسی اور ریٹیل ڈیریویٹو ٹریڈرز کی لاگت میں اضافہ ہوگا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined