
ارون گولی کی فائل فوٹو / آئی اے این ایس
برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے انتخابات میں سابق گینگسٹر اور سابق ایم ایل اے ارون گاولی کو بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ان کی دونوں بیٹیاں الیکشن ہار گئی ہیں۔ گیتا گاولی اور یوگیتا نے اپنے والد ارون گاولی کے ذریعہ قائم اکھل بھارتیہ سینا (اے بی ایچ ایس) کے ٹکٹ پر ممبئی کے بائیکلہ علاقے سے انتخاب لڑا تھا۔
Published: undefined
بی ایم سی کی 3 بار کونسلر رہنے والی گیتا وارڈ نمبر 212 سے الیکشن ہار گئیں جبکہ ان کی بہن یوگیتا کو وارڈ نمبر 207 میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ گیتا کو سماج وادی پارٹی(ایس پی) کے امیدوار امرین شہزاد ابراہنی نے شکست دی۔ پہلی بار الیکشن لڑنے والی یوگیتا کو بی جے پی امیدوار روہی داس لوکھنڈے سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ستمبر 2025 میں سپریم کورٹ سے ضمانت ملنے کے بعد ارون گاولی ناگپور سینٹرل جیل سے رہا ہوئے تھے۔
Published: undefined
دریں اثنا آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) نے بی ایم سی انتخابات میں بہترین مظاہرہ کیا ہے جو ریاست میں اقلیتی ووٹ پیٹرن میں بڑی تبدیلی کا اشارہ مانا جارہا ہے۔ پارٹی نے ووٹ ڈالنے والے 29 میونسپل کارپوریشنوں میں سے 13 میں 125 سیٹیں جیتی ہیں۔ چھترپتی سمبھاجی نگر (اورنگ آباد) میں پارٹی نے سب سے زیادہ سیٹیں جیت کر اپنا دبدبہ برقرار رکھا جہاں 33 کونسلر منتخب کئے گئے ہیں۔
Published: undefined
ممبئی (بی ایم سی) میں اے آئی ایم آئی ایم نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے 8 سیٹیں جیتی ہیں۔ مالیگاؤں میں اے آئی ایم آئی ایم نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن مالیگاؤں سیکولر مورچہ کی قیادت والی اسلام پارٹی 35 سیٹوں کے ساتھ ایک اہم طاقت کے طور پر اُبھری جس سے وہاں کے میئر کے لیے راستہ صاف ہوگیا ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم نے ناندیڑ میں 15 سیٹیں،امراوتی میں 12، دھولے میں 10، ناگپور میں 6 اور تھانے میں 5 سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔
Published: undefined
شعلہ پور کے وارڈ 14 اور 20 میں تمام امیدواروں کو پیچھے چھوڑ کر اے آئی ایم آئی ایم شعلہ پور نگر نگم میں بی جے پی کے بعد دوسری سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے۔ ناگپور میں پارٹی نے 6 چیٹیں جیتی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ علیشا فہیم خان (فہیم خان کی اہلیہ) نے وارڈ 3-ڈی سے جیت حاصل کی ہے۔ پارٹی نے وارڈ 6 میں بھی تینوں سیٹیں جیت کر کلین سویپ کیا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined