قومی خبریں

’ناری کو نعرہ بنانے کی کوشش میں تھی بی جے پی‘ ، خواتین ریزرویشن بل پر اکھلیش یادو کا حکومت پر حملہ

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو چھوٹے گروپوں میں بانٹتی ہے اور پھر انہیں ڈراتی ہے اور کہتی ہے تم خطرے میں ہو، ہمارے ساتھ آ جاؤ، وہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک گر سکتی ہے

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>

اکھلیش یادو / آئی اے این ایس

 
IANS

اترپردیش کے سابق وزیراعلیٰ اور سماجوادی پارٹی (ایس پی) کے سربراہ اکھلیش یادو نے ’ناری شکتی وندن ایکٹ‘ کو لے کر بی جے پی پر سخت حملہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ’ناری‘ (خاتون) کو ’نعرہ‘ بنانے کی کوشش میں تھی لیکن انہیں ان کے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب بی جے پی مردم شماری نہیں کرا سکتی تو وہ خواتین کو ریزرویشن کیسے دیں گے؟

Published: undefined

اکھلیش یادو نے اتوار کے روز لکھنؤ میں کہا کہ اگر حکومت مردم شماری کراتی ہے تو ذات پات کی مردم شماری کا مسئلہ پیدا ہوگا تاہم یہ حکومت ان کا حق نہیں دینا چاہتی۔ ہم نصف آبادی کو حق دینا چاہتے ہیں لیکن یہ کون طے کرے گا کہ آدھی آبادی کون سی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن اب حقیقی معنوں میں ملک کی نمائندگی کر رہا ہے۔ بی جے پی پہلے لوگوں کو چھوٹے گروپوں میں بانٹتی ہے اور پھر انہیں ڈراتی ہے اور کہتی ہے تم خطرے میں ہو، ہمارے ساتھ آ جاؤ۔ بی جے پی اقتدار حاصل کرنے کے لیے کسی بھی سطح تک گر سکتی ہے۔

Published: undefined

ایس پی سربراہ نے مزید کہا کہ بی جے پی کا سی ایم ایف فارمولا یعنی’مصیبت اور خوف پیدا کرو‘ اب فیل ہو چکا ہے۔ ان کے ہتھکنڈے عوام کے سامنے بے نقاب ہو چکے ہیں۔ اس لیے ان کی شکست کا آغاز ہو چکا ہے۔ بی جے پی اب اتحاد کو تقسیم کرنے کے لیے خواتین کے بیچ کھیل کھیل رہی ہے۔ لیکن اب خواتین ہی بی جے پی کو ہرائیں گی، بی جے پی والے مردانہ طاقت پر یقین رکھتے ہیں۔

Published: undefined

اکھلیش یادو نے کہا کہ بی جے پی کی ہر کوشش، ہر بل یا تو چند لوگوں کو فائدہ پہنچانے والا ہوتا ہے یا پھر دھوکہ ہوتاہے۔ اس بار بی جے پی اس بل کے ذریعے خواتین کے اتحاد میں دراڑ ڈال کر ان کو ٹھگنا چاہتی تھی لیکن اپوزیشن کے اتحاد نے ان کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ یہ بی جے پی کے خلاف ملک میں تنگ ہوچکی عوامی بیداری کی جیت ہے۔ خواتین ریزرویشن بل کی مدد سے بی جے پی ناری کو نعرہ بنانے کی کوشش کر رہی تھی۔ یہ بل حد بندی کی صورت میں بھی خواتین کا استحصال کرنے کے لیے آیا تھا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined