قومی خبریں

بی جے پی رام مندر نہیں صرف اقتدار کی بھوکی: شنکراچاریہ سوروپانند

دوارکا کے شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی نے کہا، ’’بی جے پی رام مندر تعمیر نہیں کرنا چاہتی بلکہ اس کا مقصد مندر کے نام پر اقتدار حاصل کرنا ہے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا دوارکا پیٹھ کے شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی

دوارکا پیٹھ کے شنکراچاریہ سوروپانند سرسوتی کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا مقصد ایودھیا میں مندر کی تعمیر کرانا نہیں ہے بلکہ وہ رام مندر کے نام پر اقتدار پر قابض ہونا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی کوشش ہے کہ آئندہ انتخابات میں رام مندر کا سہارا لے کر پھر سے اقتدار تک پہنچا جائے۔

اتوار کو صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مندر تعمیر کے نام پر بی جے پی عوام کو گمراہ کر رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بی جے پی کا مقصد مندر تعمیر کے بہانے اقتدار میں بنا رہنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مندر تعمیر کرنا کسی پارٹی کا کام نہیں ہے اور مندر تعمیر کوئی بھی پارٹی حکومت میں رہتے نہیں کر سکتی۔ انہوں نے کہا کہ رام مندر کی تعمیر سپریم کورٹ کے حکم سے ہی ہو سکتی ہے یا پھر سادھو سنت مل کر مندر تعمیر کرا سکتے ہیں۔

Published: undefined

سوروپانند سرسوتی نے تحریک عدم اعتماد کے دوران پارلیمنٹ میں دی گئی راہل گاندھی کی تقریر کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی نے بہت اچھی باتی کہی۔ لوک سبھا میں راہل نے پپو کہنے کی مخالفت نہیں کی بلکہ بی جے پی کی پالیسیوں کے خلاف مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی آئے دن کہتے ہیں کہ میں چھوٹی ذات کا ہوں لیکن وہ کہیں سے چھوٹی ذات کے نہیں لگتے۔

راہل گاندھی کی طرف سے مندر-مسجد جانے کے سوال پر سوامی سوروپانند نے کہا کہ یہ دکھاوے کا کام تو ریندر مودی بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’ہم تو یہ جانتے ہیں کہ جو ہندو دھرم کو مانتا ہے وہی ہندو ہے اور اگر کوئی مسلمان ہندو دھرم کو مانتا ہے تو وہ ہمارا ہندو پنتھی مسلم بھائی ہے۔

ملک میں گئورکشا کے نام پر ہو رہی موب لنچنگ پر شنکراچایہ نے کہا کہ نریندر مودی کو نوٹ بندی کی طرح ہی ملک سے گائے کی درآمد پر روک لگانے کا حکم جاری کرنا چاہئے۔ ریزرویشن کے مدے پر انہوں نے کہا، سب کا ساتھ سب کا وکاس کہاں ہے! انہوں نے کہا کہ آج روحانیت کو تعلیم سے علیحدہ کر دیا گیا ہے جس کے سبب آبروریزی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined