قومی خبریں

جج کو دھمکی دینے والا بی جے پی لیڈر گرفتار، وکلاء نے بھی مقدمہ لڑنے سے کیا انکار

دیواس کے چوتھے ضلع اور ایڈیشنل سیشن جج پرسنا سنگھ بہراوت اپنی کار سے عدالت جا رہے تھے۔ اسی دوران دھن لکشمی میرج گارڈن کے قریب ملزمین نے اپنی اسکارپیو گاڑی سڑک گھیر کر کھڑی کر رکھی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>فوٹو ویڈیو گریپ</p></div>

فوٹو ویڈیو گریپ

 
ali

مدھیہ پردیش کے دیواس میں بی جے پی لیڈرپنکج گھارو کے ذریعہ جج کے ساتھ بدسلوکی کرنے کا معاملہ طول پکڑتا جا رہا ہے۔ ناہردروازہ پولیس نے جج کا راستہ روکنے اور دھمکی دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کرکے کلیدی ملزم پنکج گھارو اور اس کے ایک ساتھی کو گرفتار کرلیا ہے۔ وہیں ایک دیگر ملزم فی الحال فرار بتایا جارہاہے۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ منگل کو دیواس کے جئے شری نگر علاقے میں پیش آیا۔ چوتھے ضلع اور ایڈیشنل سیشن جج پرسنا سنگھ بہراوت اپنی کار سے عدالت جا رہے تھے۔ اسی دوران دھن لکشمی میرج گارڈن کے قریب ملزمین نے اپنی اسکارپیو گاڑی سڑک پر کھڑی کر رکھی تھی۔

Published: undefined

جب جج نے ان سے گاڑی ہٹانے کو کہا تو ملزمین نے بدتمیزی کی اور دھمکیاں دیں۔ اس واقعہ کے بعد جج نے ناہر دروازہ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی اور اس کے ساتھ ہی پولیس سپرنٹنڈنٹ(ایس پی) اور پولیس ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) کو بھی موبائل پرواقعہ کے بارے میں مطلع کیا۔شکایت کی بنیاد پر پولیس نے پنکج گھارو اور دو دیگر لوگوں کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا۔ جس کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو ملزمین کو گرفتار کر لیا۔ معاملے کے طول پکڑنے کے بعد بدھ کی دوپہر ضلع انتظامیہ نے بھی سخت کارروائی کی۔

Published: undefined

انتظامی ٹیم نے بھوپال روڈ اور بلاولی بامن کھیڑا علاقے میں سرکاری زمین پرملزم پنکج گھارو کی طرف سے کئے گئے غیر قانونی قبضے کو ہٹانے کے لیے بلڈوزر چلایا۔ تحصیلدار سپنا شرما نے بتایا کہ متعلقہ شخص نے کانکڑ میں سرکاری زمین پر پولٹری فارم سمیت دیگر ڈھانچے بنارکھے تھے۔ ’آج تک‘ کی نیوز کے مطابق کئی بار نوٹس دینے کے باوجود تجاوزات نہیں ہٹائی گئیں جس کے باعث کارروائی کی گئی۔ اس موقع پر پولیس اور انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنے اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آئندہ بھی کارروائی جاری رہے گی۔ ادھر ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن نے ایک خط جاری کرکے کہا ہے کہ ایسوسی ایشن کا کوئی رکن ملزم کی پیروی نہیں کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined