
دہلی کانگریس صدر دیویندر یادو
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: دہلی پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر دیویندر یادو نے آج اپنے ایک بیان میں کہا کہ دہلی میں ترقی کے نام پر بی جے پی کی مرکزی اور دہلی حکومت نے مسلسل درختوں کی کٹائی کر کے شہر میں آلودگی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ دوارکا ایکسپریس وے اور یو ای آر-2 کو ترقی دینے کے لیے کاٹے گئے درختوں کے بدلے ڈی ڈی اے نے 2 لاکھ 18 ہزار 70 درخت لگانے کی ذمہ داری لی تھی۔ اس مقصد کے لیے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے ڈی ڈی اے کو 142.87 کروڑ روپے کی پیشگی رقم ادا کی تھی، تاکہ دہلی میں آلودگی کم کرنے کی سمت میں ذمہ داری نبھائی جا سکے۔ لیکن این ایچ اے آئی اور دہلی حکومت کے افسران کی مشترکہ میٹنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ نصف سے بھی کم، یعنی صرف 1,00,613 درخت ہی لگائے گئے ہیں۔
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی میں بڑھتی آلودگی اور شہرکاری کے سبب درختوں کی کٹائی ایک حساس مسئلہ ہونے کے باوجود بی جے پی کی دہلی حکومت آلودگی کو قابو میں کرنے کے لیے شجرکاری کے معاملے میں مؤثر طور پر کام نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں بڑھتی آلودگی کو کم کرنے کے لیے گرین کور میں اضافہ ایک مستقل حل ہے، لیکن بی جے پی کی کثیر انجن والی دہلی حکومت گرین کور بڑھانے کے نام پر اعلانات کے سوا اب تک کچھ بھی نہیں کر سکی۔ اگر مرکزی حکومت کے تحت ڈی ڈی اے دہلی میں گرین کور بڑھانے میں اسی طرح کی بے عملی دکھاتا رہا تو دہلی کو ہمیشہ آلودگی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
Published: undefined
دیویندر یادو کا کہنا ہے کہ دوارکا ایکسپریس وے کے لیے کاٹے گئے ہزاروں درختوں کے بدلے ’کمپنسیٹری پلانٹیشن‘ کے تحت ڈی ڈی اے کو 2020 میں 1,53,990 درخت لگانے کا کام این ایچ اے آئی نے سونپا تھا، جس کے لیے 87.77 کروڑ روپے کی پیشگی ادائیگی بھی کی گئی تھی۔ جب اس کی جانچ کی گئی تو تقریباً 75,000 درخت ہی پائے گئے۔ اسی طرح یو ای آر-2 پروجیکٹ کے لیے 2021 میں 64,080 درخت لگانے کی ذمہ داری ڈی ڈی اے نے لی تھی، مگر مشترکہ معائنہ میں صرف 24,887 درخت ہی موجود پائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر دہلی میں بڑھتی آلودگی پر قابو پانے کے سلسلے میں ڈی ڈی اے کی اس طرح کی لاپروائی یا بدعنوانی سامنے آتی ہے تو عوام کی صحت کے تحفظ کی ذمہ داری کون لے گا؟
Published: undefined
دیویندر یادو نے کہا کہ دہلی کی وزیر اعلیٰ نے ’وَن مہوتسو‘ کے تحت 3 جولائی کو شجرکاری مہم کا آغاز کیا اور ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت 70 لاکھ درخت لگانے کی شروعات کی، جس کے مطابق ہر اسمبلی حلقے میں ایک لاکھ پودے لگائے جانے تھے۔ لیکن افتتاحی تقریب میں ایونٹ مینجمنٹ کے دکھاوے کے بعد شجرکاری مہم ٹھپ ہو کر رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیات کے تئیں حساسیت کے ساتھ آلودگی کو قابو میں رکھنا موجودہ حکومت کی ذمہ داری ہے، لیکن وزیر اعلیٰ ریکھا گپتا آلودگی کنٹرول کے سلسلے میں اب تک کوئی ٹھوس قدم اٹھانے میں ناکام رہی ہیں، چاہے بات گرین کور بڑھانے کی ہی کیوں نہ ہو۔ انھوں نے مزید کہا کہ دہلی کے رج علاقے میں 1.65 لاکھ درختوں سے متعلق معاملے میں سپریم کورٹ نے ڈی ڈی اے سے تعمیل رپورٹ طلب کی ہے۔ سپریم کورٹ نے رج علاقے میں درختوں کی کٹائی اور شجرکاری پر بھی سوالات اٹھائے ہیں، کیونکہ دہلی کے رج علاقے میں درختوں کی کٹائی شہر میں بڑھتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ثابت ہو رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: محمد تسلیم
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز