قومی خبریں

’بی جے پی ایجنٹس بڑے پیمانے پر مسلمانوں کے نام حذف کرانے کی کوشش کر رہے‘، جھارکھنڈ ایس آئی آر پر کپل سبل نے اٹھایا سوال

کپل سبل نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر ایک ایسی مشق ہے جس کا مقصد ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کرنا اور بی جے پی کو انتخابات میں کامیابی دلانے میں مدد دینا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

ملک کے معروف وکیل اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) کو لے کر ایک بار پھر بی جے پی کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ انہوں نے اسے ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کا ذریعہ بتایا ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی بات کہی ہے۔ کپل سبل نے بدھ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر جھارکھنڈ ایس آئی آر کو ’باہر رکھنے کی سیاست‘ قرار دیا۔ انہوں نے ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جھارکھنڈ ایس آئی آر میں ’اخراج کی سیاست‘ ہو رہی ہے۔ بی جے پی کے ایجنٹ مسلمانوں کو ہدف بنا رہے ہیں اور بڑے پیمانے پر ان کے نام حذف کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سپریم کورٹ کو اس معاملے کو روکنے کی ضرورت ہے! کپل سبل نے بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر ایک ایسی مشق ہے جس کا مقصد ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کرنا اور بی جے پی کو انتخابات میں کامیابی دلانے میں مدد دینا ہے۔

اس کے علاوہ خبر رساں ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ سے بات کرتے ہوئے کپل سبل نے الزام عائد کیا کہ ’’کیا کسی بھی سیاسی پارٹی کا ممبر یا کارکن کسی شخص کے بارے میں یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ یہاں نہیں رہتا اور اس کا نام ہٹا دیا جانا چاہیے؟ بی ایل او کے پاس بڑی تعداد میں فارم-7 جمع کیے گئے، پھر نام ہٹا دیے گئے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’بی ایل او نے اس کی مخالفت کی کیوںکہ اس کے پیچھے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں تھا۔ جب یہ معاملہ سامنے آیا تو پتہ چلا کہ جن جگہوں پر ایس آئی آر کے تحت فارم-7 بھرے جا رہے تھے وہاں مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ پھر پتہ چلا کہ وہ وہاں صدیوں سے رہ رہے تھے۔‘‘

راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے مزید کہا کہ ’’جھارکھنڈ میں اپوزیشن کی حکومت ہے اس لیے وہاں دباؤ نہیں ڈال سکتے لیکن جہاں ان (بی جے پی) کی اپنی حکومت ہے وہاں انہوں نے منمانی کی تو پھر ایس آئی آر کا کیا مطلب ہے؟ سب کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو یہ متنازعہ ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے الزام عائد کیا کہ جو لوگ بی جے پی کے ووٹرس نہیں ہیں ان کے نام ہٹائے جا رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔