
مہاراشٹر اسمبلی میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران ریاستی حکومت نے ’مہاراشٹر مذہبی آزادی ایکٹ 2026‘ سے متعلق بل ایوان میں پیش کر دیا ہے۔ یہ بل ریاست کے وزیر مملکت برائے داخلہ (دیہی) پنکج بھویر نے اسمبلی میں پیش کیا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مجوزہ قانون کا مقصد زور زبردستی، دھوکہ دہی، لالچ، غلط معلومات، دباؤ، شادی یا کسی دوسرے فریب آمیز طریقے سے مذہب تبدیل کرنے کے واقعات کو روکنا ہے۔
Published: undefined
مجوزہ قانون کے تحت غیر قانونی مذہب تبدیلی کے معاملات میں ایف آئی آر مذہب تبدیل کرنے والے شخص، اس کے والدین، بھائی بہن یا دیگر رشتہ دار درج کرا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس کو ایسے معاملات میں از خود نوٹس لینے کا اختیار بھی دیا گیا ہے۔ بل میں غیر قانونی مذہب تبدیلی کے لیے زیادہ سے زیادہ 7 سال قید اور 1 لاکھ سے 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ اگر مذہب تبدیلی کا معاملہ کسی نابالغ، خاتون، ذہنی طور پر معذور شخص یا درج فہرست ذات/قبائل کے فرد سے متعلق ہو، یا اجتماعی مذہب تبدیلی کا معاملہ ہو، تو اس کے لیے اس سے بھی زیادہ سخت سزا کا انتظام کیا گیا ہے۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بل میں بار بار جرم کرنے والوں کو 10 سال تک قید اور 7 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی ادارے یا تنظیم کا کردار اس طرح کے مذہب تبدیلی کے معاملے میں پایا جاتا ہے تو اس کا رجسٹریشن منسوخ کیا جا سکتا ہے اور ذمہ دار افراد کے خلاف قید اور جرمانے کی کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایسے اداروں کو ملنے والی سرکاری مالی امداد بھی بند کی جا سکتی ہے۔
Published: undefined
بل میں رضاکارانہ طور پر مذہب تبدیل کرنے کے عمل کے لیے بھی ایک طریقہ کار طے کیا گیا ہے۔ اس کے تحت مذہب تبدیل کرنے سے پہلے متعلقہ شخص کو 60 دن پہلے مجاز اتھارٹی کو اطلاع دینی ہوگی۔ اس اطلاع کے بعد 30 دن کے اندر اعتراض درج کرایا جا سکتا ہے، جس کی بنیاد پر انتظامیہ پولیس جانچ کرا سکتی ہے۔ مذہب تبدیل کرنے کے بعد متعلقہ شخص اور اس کا اہتمام کرنے والی تنظیم کو 21 دن کے اندر حلف نامہ جمع کرانا ہوگا۔ اگر یہ عمل مکمل نہیں کیا جاتا تو مذہب تبدیلی کو کالعدم سمجھا جائے گا۔
Published: undefined
اس کے علاوہ بل میں غیر قانونی مذہب تبدیلی کے متاثرین کی بازآبادکاری اور تحفظ کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں، جن میں نان و نفقہ اور بچوں کی سرپرستی سے متعلق دفعات بھی شامل ہیں۔ اسمبلی میں بل پیش ہونے کے بعد آنے والے دنوں میں اس پر ایوان میں تفصیلی بحث ہونے کا امکان ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined