نیٹ یو جی کے دوبارہ امتحان سے قبل 20 جون کو ملک گیر ماک ڈرل، 2.5 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار تعینات
نیٹ یو جی کے دوبارہ امتحان سے قبل 20 جون کو ملک گیر ماک ڈرل کا انعقاد کیا جائے گا، جس میں 2.5 لاکھ سے زائد سکیورٹی اہلکار حصہ لیں گے۔ 5000 سے زیادہ امتحانی مراکز پر 3 سطحی حفاظتی انتظامات کیے گئے ہیں

نئی دہلی: ملک میں 21 جون کو منعقد ہونے جا رہے نیٹ یو جی 2026 کے ری ایگزام یعنی دوبارہ امتحان کے پیش نظر وسیع پیمانے پر حفاظتی اور انتظامی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اسی سلسلے میں کل یعنی 20 جون کو ملک بھر میں ایک بڑی ماک ڈرل کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ امتحانی انتظامات اور مختلف اداروں کے درمیان تال میل کا جائزہ لیا جا سکے۔
حکام کے مطابق یہ ماک ڈرل صبح 9 بجے شروع ہوگی اور رات تک جاری رہے گی۔ اس میں ملک بھر سے ڈھائی لاکھ سے زیادہ سکیورٹی اہلکار شریک ہوں گے۔ تمام امتحانی مراکز قومی جانچ ایجنسی (این ٹی اے) کے حوالے کر دیے گئے ہیں اور امتحان کے دن 3 سطحی حفاظتی نظام نافذ رہے گا۔
رپورٹ میں ذرائع کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ سوالیہ پرچوں اور جوابی کاپیوں کی حفاظت کی ذمہ داری نیم فوجی دستوں کے سپرد کی گئی ہے۔ ملک بھر میں 5000 سے زائد امتحانی مراکز کی نگرانی کلوز سرکٹ کیمروں اور سکیورٹی اہلکاروں کے ذریعے کی جائے گی تاکہ کسی بھی بے ضابطگی کو فوری طور پر روکا جا سکے۔
کلوز سرکٹ کیمروں کی تصاویر قومی جانچ ایجنسی کو ریئل ٹائم میں دستیاب رہیں گی۔ اس کے علاوہ امتحان سے متعلق کسی بھی مشتبہ سرگرمی اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی افواہوں یا غیر قانونی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی نگرانی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ تمام تفتیشی اور حفاظتی اداروں کو پہلے ہی چوکس کر دیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ کے ساتھ ساتھ ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے افسران بھی امتحانی مراکز پر انتظامات کا جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ امتحان کا انعقاد شفاف اور منظم طریقے سے یقینی بنایا جا سکے۔
21 جون کو ہونے والی نیٹ یو جی 2026 کی دوبارہ امتحان کے لیے تقریباً 22 لاکھ امیدواروں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔ ان میں سے تقریباً 18 لاکھ امیدوار اپنے داخلہ کارڈ حاصل کر چکے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک گیر ماک ڈرل کا بنیادی مقصد امتحان سے پہلے حفاظتی اقدامات، مختلف اداروں کے درمیان رابطے اور انتظامی تیاریوں کی مؤثریت کا جائزہ لینا ہے تاکہ امتحان کے دوران کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
