قومی خبریں

بہار میں سیلاب سے 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر، حکومت سو رہی ہے: تیجسوی یادو

آر جے ڈی رہنما تیجسوی یادو نے بہار کے سیلاب پر مرکز و ریاستی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے 45 لاکھ سے زائد افراد کے متاثر ہونے کا دعویٰ کیا اور فوری امداد و خصوصی پیکیج کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>تصویر آئی اے این ایس</p></div>

تصویر آئی اے این ایس

 

پٹنہ: راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے قومی گارگزار صدر اور بہار اسمبلی میں قائد حزب اختلاف تیجسوی یادو نے ریاست میں سیلاب کی صورت حال سمیت مختلف مسائل پر مرکز اور ریاستی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہار میں 45 لاکھ سے زیادہ لوگ سیلاب سے متاثر ہیں، لیکن حکومت اس سنگین بحران کے تئیں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی۔

پٹنہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تیجسوی یادو نے کہا کہ انہوں نے سیلاب، راگھوپور میں کٹاؤ اور دیگر مسائل کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ، نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم کو خطوط لکھے، لیکن کسی خط کا جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جواب دے یا نہ دے، لیکن عوام نے اسے مینڈیٹ دیا ہے تو اسے عوام کی مشکلات دور کرنے کے لیے کام کرنا چاہیے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ آر جے ڈی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر بہار کے سیلاب کو قومی آفت قرار دینے، خصوصی مالی پیکیج دینے اور فوج، فضائیہ و ہیلی کاپٹروں کی مدد سے متاثرہ علاقوں تک امدادی سامان پہنچانے کا مطالبہ کیا تھا۔ ان کے مطابق، اب تک مرکز کی جانب سے کوئی ٹھوس کارروائی سامنے نہیں آئی ہے۔

انہوں نے بہار سے تعلق رکھنے والے مرکزی وزرا اور این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ کو بھی نشانہ بنایا۔ تیجسوی نے کہا کہ بہار سے این ڈی اے کے 30 سے زیادہ ارکان پارلیمنٹ اور کئی مرکزی وزرا ہیں، لیکن وہ مرکز سے ریاست کے لیے خصوصی امداد حاصل نہیں کر پا رہے ہیں۔

انہوں نے گجرات میں شدید بارش اور سیلاب کے دوران مرکزی حکومت کی سرگرمی کا حوالہ دیتے ہوئے بہار کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔ ان کا کہنا تھا کہ گجرات میں بارش کے بعد وزیر اعظم وزیر اعلیٰ سے بات کرتے ہیں اور امداد کا اعلان ہوتا ہے، لیکن بہار میں لاکھوں افراد کے متاثر ہونے کے باوجود اسی سطح کی سنجیدگی نظر نہیں آ رہی۔

آر جے ڈی رہنما نے ریاستی حکومت پر مالی بدانتظامی کا الزام بھی عائد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ آفت سے عین قبل ہنگامی فنڈ سے تقریباً چار ہزار کروڑ روپے نکال کر عام اسکیموں اور پنشن پر خرچ کیے گئے۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے اس بیان کا حوالہ دیا کہ سرکاری خزانے پر پہلا حق آفت زدگان کا ہے اور سوال کیا کہ اب اس اصول کا کیا ہوا۔

تیجسوی نے کہا کہ کئی علاقوں میں اب بھی پانی جمع ہے، لوگ بجلی کے بغیر رہنے پر مجبور ہیں اور امدادی انتظامات کے حوالے سے شکایات موصول ہو رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن کا کام عوام کی تکلیف حکومت کے سامنے رکھنا ہے، جبکہ بڑے پیمانے پر راحت اور بچاؤ کی ذمہ داری حکومت کی ہے۔

تیجسوی یادو نے کہا کہ بہار کے مسائل محض بیان بازی سے حل نہیں ہوں گے۔ حکومت کو سیلاب متاثرین کے لیے فوری امداد، مناسب وسائل اور مستقل حل کی سمت میں مؤثر اقدامات کرنا ہوں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔