قومی خبریں

بنگال کی ’جھال موڑی‘ کا انٹر نیٹ پر آیا طوفان، 22 برسوں میں سب سے زیادہ سرچ کئے جانے کا بنایا ریکارڈ

وزیراعظم کی جانب سے بنگال کے ’جھال موڑی‘ کی ویڈیو وائرل کئے جانے کے بعد کھانے کے شوقین لوگوں کی دلچسپی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لاکھوں صارفین نے اس اسٹریٹ فوڈ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب (علامتی تصویر)</p></div>

ویڈیو گریب (علامتی تصویر)

 

ہندوستان اپنے کھانوں اور رہن سہن کے لیے کافی مشہور ہے۔ یہاں ہر علاقہ اپنے کسی نہ کسی کھانے کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کچھ اسی طرح بنگال کی ’جھال موڑی‘ ہے جو اس وقت انٹرنیٹ پر دھمال مچائے ہوئے ہے۔ بنگال کا ایک عام اسٹریٹ فوڈ اچانک پورے ملک میں سرخیوں میں آ گیا ہے۔ ایسا کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے لیکن اس بار’جھال موڑی‘ نے حقیقت میں انٹرنیٹ پر تہلکہ مچا دیا ہے۔ جھاڑگرام میں انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم کے ایک قلیل قیام کے بعد ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ سوشل میڈیا سے لے کر سب سے بڑے سرچ انجن گوگل تک ہر جگہ بس اسی کھانے کی بات ہو رہی ہے۔ لوگ نہ صرف ویڈیو دیکھ رہے ہیں بلکہ بڑی تعداد میں یہ بھی سرچ کر رہے ہیں کہ آخر جھال موڑی کیا ہے، کیسے بنتی ہے اور کہاں ملتی ہے؟

Published: undefined

دراصل وزیر اعظم مودی کے جھال موڑی کھانے والی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو کے بعد سے ہی گوگل پر ’جھال موڑی‘ کی تلاش میں زبردست اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ لفظ گزشتہ تقریباً 22 برسوں میں سب سے زیادہ سرچ کیا گیا ہے جو اپنے آپ میں ریکارڈ مانا جا رہا ہے۔ ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد لوگوں کی دلچسپی اتنی بڑھ گئی ہے کہ لاکھوں صارفین نے اس اسٹریٹ فوڈ کے بارے میں معلومات حاصل کرنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اسے بھی ’مودی افیکٹ‘ بتانے میں مصروف ہے اور ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے صارفین کہہ رہے ہیں کہ ’’ایک معمولی اسٹال کی قسمت راتوں رات بدل گئی۔‘‘

Published: undefined

بتا دیں کہ انتخابی ریاست بنگال کے جھاڑگرام میں انتخابی مہم کے دوران پی ایم مودی نے سڑک پر لگی ایک دکان سے جھال موڑی کا لطف اٹھایا تھا اور اس کی ویڈیو خود وزیر اعظم نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی تھی۔ اس ویڈیو کو اب تک تقریباً 10 کروڑ سے زیادہ لوگ دیکھ چکے ہیں جس کے بعد اب گوگل پر بھی جھال موڑی کو زبردست شہرت ملی ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined