مغربی بنگال: محکمہ آبکاری نے ووٹنگ سے 3 روز قبل 16 اضلاع میں شراب فروخت کرنے پر عائد کی پابندی
مغربی بنگال میں 23 اپریل کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ ہونی ہے۔ اس سے 3 روز قبل شراب کی فروخت پر پابندی کے سبب کئی طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔

مغربی بنگال میں جاری انتخابی ہلچل کے درمیان ایک نئی خبر نے ریاست میں گہما گہمی پیدا کر دی ہے۔ پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے محض 3 روز قبل ریاست کے محکمہ آبکاری نے شراب کی فروخت پر اچانک ’سرجیکل اسٹرائیک‘ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ محکمہ آبکاری نے مغربی بنگال میں پہلے مرحلہ کے انتخاب والے اضلاع میں آج (20 اپریل) رات 9 بجے سے شراب کی فروخت کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔ ان اضلاع میں ’بار‘ کو بھی بند رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں مغربی بنگال کے محکمہ ایکسائز نے باضابطہ حکم جاری کیا ہے۔
قبل میں خبریں آ رہی تھیں کہ شراب کی فروخت پر پابندی 21 اپریل سے نافذ ہوگی، لیکن 19 اپریل کی رات اچانک حکم جاری کیا گیا کہ 20 اپریل کی شب 9 بجے سے ہی شراب کی فروخت ممنوع ہوگی۔ چونکہ مغربی بنگال میں 23 اپریل کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ ہونی ہے، اس لیے یہ فیصلہ بہت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے سے کئی طرح کی قیاس آرائیاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ شراب دکانداروں کو سمجھ نہیں آ رہا ہے کہ اچانک 20 اپریل کی شب سے ہی پابندی کیوں لگا دی گئی۔ حالانکہ انھوں نے کہا ہے کہ وہ محکمہ ایکسائز کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے دکانیں بند رکھیں گے۔
واضح رہے کہ مغربی بنگال میں پہلے مرحلہ میں 152 سیٹوں پر ووٹنگ ہوگی۔ پہلے مرحلہ میں شمالی بنگال کے سبھی ضلعوں میں لوگ 23 اپریل کو اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے۔ یہ اضلاع ہیں کوچ بہار، علی پور دوار، جلپائی گوڑی، کالیم پونگ، دارجیلنگ، شمالی دیناج پور، جنوبی دیناج پور اور مالدہ۔ اس کے علاوہ مرشد آباد، بیربھوم، مغربی وردمان، بانکورا، پرولیا، مغربی میدنی پور، مشرقی میدنی پور اور جھاڑگرام میں بھی پہلے مرحلہ میں ہی ووٹنگ ہوگی۔ گویا کہ پہلے مرحلہ میں مجموعی طور پر 16 اضلاع میں ووٹ ڈالے جائیں گے۔ ریاست کے محکمہ ایکساز نے ان سبھی 16 اضلاع میں 20 اپریل کی شب 9 بجے سے شراب کی فروخت پر پابندی لگا دی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔