ٹرمپ کی ایران کو مزید حملوں کی دھمکی، کہا- ’مذاکرات میں تاخیر کی قیمت چکانی ہوگی‘
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اگر مذاکرات میں مزید تاخیر ہوئی تو اس کے اہم بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے بیان سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے سخت موقف کو مزید واضح کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے جلد کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے سنجیدہ پیش رفت نہ کی تو اس کے اہم بنیادی ڈھانچوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے تازہ بیان نے پہلے سے کشیدہ مغربی ایشیا میں نئی تشویش پیدا کر دی ہے اور عالمی سطح پر سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
امریکی ذرائع ابلاغ کو دیے گئے ایک ٹیلیفونک انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے بجلی گھروں، پلوں اور دیگر اہم تنصیبات کے خلاف مزید کارروائیوں کی منظوری دینے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران مذاکرات کے عمل کو غیر ضروری طور پر طول دے رہا ہے اور یہ طرز عمل قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ تہران نے معاہدے تک پہنچنے کے کئی مواقع ضائع کیے ہیں۔
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب گزشتہ دو روز کے دوران خطے میں فضائی حملوں اور عسکری سرگرمیوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف علاقائی سلامتی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ کیا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے بارے میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر بھی ایک سخت پیغام جاری کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ایران مذاکرات کے لیے بہت زیادہ وقت ضائع کر چکا ہے اور اب اسے اس تاخیر کی قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی فوجی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچ چکا ہے اور وہ محض بیانات دے رہا ہے جبکہ عملی طور پر کوئی پیش رفت نہیں کر رہا۔
اگرچہ امریکی صدر نے ممکنہ کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی واضح تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم انہوں نے ایک بار پھر ایران کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کا اشارہ دیا۔ مبصرین کے مطابق اگر توانائی اور نقل و حمل سے متعلق تنصیبات پر حملے کیے گئے تو اس کے اثرات ایران اور امریکہ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا خطہ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران مسلسل یہ موقف دہراتا رہا ہے کہ وہ بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے والا نہیں اور کسی بھی ممکنہ فوجی کارروائی کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ادھر چین، روس اور کئی دیگر ممالک نے تمام فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ بڑھتی ہوئی بیان بازی کے باعث سفارتی حل کی راہ مزید دشوار دکھائی دے رہی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
