این ٹی اے اور سی بی ایس ای تنازعہ: سابق بیوروکریٹس کا دھرمیندر پردھان کے استعفے اور آزادانہ جانچ کا مطالبہ
73 سابق بیوروکریٹس نے نیٹ پرچہ لیک اور سی بی ایس ای کی آن لائن جانچ نظام پر سوال اٹھاتے ہوئے دھرمیندر پردھان کے استعفے، این ٹی اے و سی بی ایس ای کی آزادانہ جانچ اور جوابدہی طے کرنے کا مطالبہ کیا

نئی دہلی: ملک کے 73 سابق سینئر بیوروکریٹس نے نیٹ یو جی سوالیہ پرچہ لیک معاملے اور سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام سے جڑے تنازعات پر مرکزی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان سے اخلاقی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دینے اور این ٹی اے و سی بی ایس ای کے نظام کی آزادانہ، وقت بند اور جامع جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔
سابق افسران کی جانب سے جاری کھلے خط پر سابق خارجہ سکریٹری شیو شنکر مینن، سابق ہیلتھ سکریٹری کے سجاتا راؤ، پنجاب پولیس کے سابق سربراہ جولیو ربیرو، سابق الیکشن کمشنر اشوک لواسا اور دہلی کے سابق لیفٹیننٹ گورنر نجیب جنگ سمیت متعدد معروف شخصیات نے دستخط کیے ہیں۔
خط میں کہا گیا ہے کہ قومی سطح کے امتحانات کے انعقاد میں بار بار سامنے آنے والی ناکامیاں لاکھوں طلبہ کے مستقبل اور عوامی اعتماد کے لیے شدید نقصان دہ ثابت ہوئی ہیں۔ سابق افسران کے مطابق نیٹ یو جی پرچہ لیک معاملے نے 23 لاکھ سے زائد امیدواروں کی محنت اور امیدوں کو متاثر کیا، جبکہ ہر سال سامنے آنے والی بے ضابطگیاں امتحانی نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہیں۔
خط میں سوالیہ پرچوں کے تحفظ کے لیے جدید سکیورٹی اور کرپٹوگرافک نظام نافذ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ کسی بھی ڈیجیٹل جانچ سافٹ ویئر کو قومی سطح پر نافذ کرنے سے پہلے اس کا آزاد اداروں سے سخت آڈٹ کرایا جائے۔
سابق بیوروکریٹس نے سی بی ایس ای کے آن اسکرین مارکنگ نظام کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق اس نظام کے نفاذ کے دوران پورٹل کریش ہونے، صفحات غائب ہونے، جوابی کاپیوں میں مطابقت نہ رہنے اور غلط جانچ جیسے مسائل سامنے آئے، جن کا اثر خاص طور پر طبیعیات، کیمیا اور ریاضی جیسے مضامین پر پڑا۔ خط میں دعویٰ کیا گیا کہ اس انتظامی جلد بازی کے نتیجے میں کامیابی کی مجموعی شرح اور اعلیٰ نمبرات میں غیر معمولی کمی دیکھی گئی۔
سابق افسران نے الزام لگایا کہ بعض طلبہ نے اخلاقی ہیکرز کی مدد سے نظام کی سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا، لیکن بعد میں صرف سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سکریٹری کے تبادلوں تک کارروائی محدود رہی۔ ان کے مطابق معاملے کی ذمہ داری صرف چند افسران تک محدود نہیں ہو سکتی بلکہ پالیسی سازی کی اعلیٰ سطحوں کا کردار بھی جانچ کا موضوع ہونا چاہیے۔
خط میں ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے لال بہادر شاستری، مادھوراؤ سندھیا، نتیش کمار اور شیو راج پاٹل کے استعفوں کا حوالہ دیا گیا اور کہا گیا کہ جب لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہو تو سیاسی اور انتظامی جوابدہی بھی یقینی بنائی جانی چاہیے۔
