قومی خبریں

بنگال ایس آئی آر: سماعت کی ڈیڈ لائن ختم، وقت کی حد سے متعلق کنفیوژن برقرار

مغربی بنگال کے 3 انتخابی اضلاع میں تقریباً 15 اسمبلی سیٹوں پر ’ایس آئی آر‘ کی سماعت زیر التوا ہے، جس کی وجہ سے ڈیڈ لائن بڑھانے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹر لسٹ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>

ووٹر لسٹ / علامتی تصویر / آئی اے این ایس

 

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) سے متعلق دعوے اور اعتراضات پر سماعت کی ڈیڈ لائن ختم ہو چکی ہے، لیکن کئی علاقوں میں عمل مکمل نہ ہونے کی وجہ سے صورتحال اب بھی واضح نہیں ہو پائی ہے۔ ریاست کے 3 انتخابی اضلاع میں تقریباً 15 اسمبلی سیٹوں پر سماعت زیر التوا ہے، جس کی وجہ سے ڈیڈ لائن بڑھانے کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

Published: undefined

مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر (سی ای او) مغربی بنگال منوج کمار اگروال نے سماعت کے عمل کے لیے 7 دن کا اضافی وقت مانگا ہے۔ حالانکہ کولکاتہ میں واقع سی ای او دفتر کو اب تک نئی دہلی میں الیکشن کمیشن (ای سی آئی) ہیڈکوارٹر سے اس سلسلے میں کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ سی ای او دفتر سے منسلک ذرائع کے مطابق کنفیوژن کی صورتحال 2 وجوہات سے پیدا ہوئی ہے۔ پہلی یہ کہ اگر ڈیڈ لائن بڑھائی جاتی ہے تو نئی آخری تاریخ کیا ہوگی؟ دوسری یہ کہ اس توسیع کا اطلاق صرف انہی 15 اسمبلی حلقوں تک محدود رہے گی، جہاں سماعت مکمل نہیں ہو پائی ہے یا پھر پوری ریاست کے لیے وقت کی حد بڑھائی جائے گی؟

Published: undefined

ذرائع نے بتایا کہ اگر الیکشن کمیشن پوری ریاست کے لیے ڈیڈ لائن میں اضافے کا فیصلہ کرتا ہے تو 14 فروری کو جاری ہونے والی حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت میں بھی اسی تناسب سے تاخیر ہوگی۔ جن 15 اسمبلی حلقوں میں سماعت اب تک نہیں ہوئی ہے وہ بنیادی طور پر 3 انتخابی اضلاع میں آتے ہیں۔ ان میں اقلیتی اکثریتی مالدہ، ساحلی اور سرحدی جنوبی 24 پرگنہ اور شمالی کولکاتہ شامل ہیں۔

Published: undefined

واضح رہے کہ اس درمیان ایک بڑی اطلاع سامنے آئی ہے کہ 4 لاکھ سے زائد ووٹرس کی شناخت ایسے لوگوں کے طور پر کی گئی ہے، جن کا نام حتمی ووٹر لسٹ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ یہ وہ ووٹرس ہیں جو دعووں اور اعتراضات کی سماعت کے دوران بار بار نوٹس بھیجے جانے کے بعد موجود نہیں ہوئے۔ ان 4 لاکھ ممکنہ طور پر ہٹائے جانے والے ووٹرس میں تقریباً 50 ہزار ’اَن میپڈ‘ ہیں اور تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار ’لوجیکل ڈسکریپینسی‘ والے معاملے میں۔ ’اَن میپڈ‘ ووٹرس وہ ہیں جو 2002 کی ووٹر لسٹ سے اپنا تعلق ثابت نہیں کر پائے، نہ تو ذاتی طور پر اور نہ ہی نسب کے ذریعہ۔ جبکہ ’لوجیکل ڈسکریپینسی‘ والے معاملوں میں شجرہ نسب کی میپنگ کے دوران خاندانی تفصیلات میں غیر معمولی خرابیاں یا تضادات پائے گئے۔

Published: undefined

واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں جب ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری کیا گیا تھا، تب 58,20,899 ووٹرس کے نام ہٹائے گئے تھے۔ انہیں مردہ، منتقل شدہ یا ڈپلیکیٹ ووٹر کے طور پر نشان زد کیا گیا تھا۔ 14 فروری کو حتمی فہرست جاری ہونے کے بعد یہ واضح ہو جائے گا کہ مجموعی طور پر کتنے نام ہٹائے گئے ہیں۔ حتمی ووٹر لسٹ کی اشاعت کے بعد الیکشن کمیشن کا مکمل بنچ مغربی بنگال کا دورہ کر کے حالات کا جائزہ لے گا۔ اس کے بعد اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کیا جائے گا۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ اسی درمیان ایس آئی آر سے متعلق ایک اہم معاملہ پیر (9 فروری) کے روز سپریم کورٹ کے 3 ججوں کے بنچ کے سامنے سماعت کے لیے درج ہے۔ ممکن ہے کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی 4 فروری کی طرح ایک بار پھر اس مسئلے پر عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کریں گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined