
تصویر اے آئی
نئی دہلی: ایک معمولی سے نظر آنے والے 6 روپے کے پیپر کیری بیگ نے معروف جوتا ساز کمپنی باٹا انڈیا کو 10 ہزار روپے ادا کرنے پر مجبور کر دیا۔ جنوبی دہلی ضلع صارف تنازعات ازالہ کمیشن (ڈی سی ڈی آر سی) نے ایک صارف کی شکایت پر فیصلہ سناتے ہوئے کمپنی کو ہدایت دی ہے کہ وہ شکایت کنندہ کو معاوضہ اور مقدمے کے اخراجات کی مد میں 10 ہزار روپے ادا کرے۔
یہ معاملہ مئی 2023 کا ہے، جب دہلی کی رہائشی پریتی اگروال نے باٹا کے ایک اسٹور سے 1499 روپے مالیت کے جوتے خریدے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ خریداری کے وقت انہیں کیری بیگ کے لیے اضافی 6 روپے ادا کرنے پڑے، حالانکہ اسٹور میں کہیں بھی یہ اطلاع موجود نہیں تھی کہ کیری بیگ الگ سے قیمت لے کر فراہم کیا جائے گا۔
Published: undefined
شکایت کنندہ کے مطابق انہیں اضافی رقم کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب وہ بلنگ کاؤنٹر پر پہنچ چکی تھیں۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ خریداری مکمل ہونے کے بعد صارف کے پاس زیادہ انتخاب باقی نہیں رہتا، کیونکہ جوتوں کے ڈبے کو ہاتھ میں لے کر جانا عملی طور پر مشکل ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پہلے سے واضح اطلاع دی جاتی تو وہ خریداری کے بارے میں بہتر فیصلہ کر سکتی تھیں۔
کمیشن نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اگرچہ خوردہ فروشوں کو سادہ اور غیر برانڈڈ کیری بیگ کے لیے الگ سے رقم وصول کرنے کی قانونی اجازت حاصل ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ صارفین کو پہلے سے واضح طور پر مطلع کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے دکان کے اندر نمایاں مقام پر نوٹس آویزاں ہونا چاہیے۔
Published: undefined
چیئرپرسن مونیکا اے شریواستو اور رکن کرن کوشا پر مشتمل بنچ نے شکایت کنندہ کی جانب سے پیش کی گئی تصاویر کا جائزہ لینے کے بعد پایا کہ متعلقہ اسٹور میں ایسا کوئی نوٹس موجود نہیں تھا۔ کمیشن نے کہا کہ پیشگی اطلاع نہ ہونے کے باعث صارف کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کا مناسب موقع نہیں ملا۔
فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ باٹا مفت کیری بیگ فراہم کرنے کا پابند نہیں تھا، لیکن کمپنی مقررہ اصولوں اور صارفین کو پیشگی آگاہ کرنے سے متعلق ہدایات پر عمل کرنے میں ناکام رہی۔
Published: undefined
دوسری جانب باٹا انڈیا نے شکایت کو مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ پیپر کیری بیگ ایک الگ مصنوعات تھی، جس پر زیادہ سے زیادہ خوردہ قیمت درج تھی۔ کمپنی کا کہنا تھا کہ بیگ صارف کی رضامندی کے بعد فراہم کیا گیا اور اس کی قیمت بل میں واضح طور پر شامل کی گئی تھی۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined