رام مندر عطیات تنازعہ: اکھلیش یادو کا بی جے پی پر حملہ، اراضی بے ضابطگیوں اور چندے میں شفافیت پر سوال

اکھلیش یادو نے رام مندر عطیات معاملے پر بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے چندے کے استعمال میں شفافیت کی کمی اور ایودھیا میں اراضی سے متعلق بے ضابطگیوں کا الزام لگایا

<div class="paragraphs"><p>اکھلیش یادو / آئی اے این ایس</p></div>
i

لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے صدر اور اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو نے رام مندر عطیات تنازعہ کو لے کر بھارتیہ جنتا پارٹی پر اپنے حملے تیز کرتے ہوئے چندے کے انتظام اور مالی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے ایودھیا میں اراضی سے متعلق بے ضابطگیوں کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

اکھلیش یادو کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اتر پردیش حکومت نے رام مندر کو ملنے والے عطیات میں بے قاعدگیوں اور شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے مالی معاملات کی جانچ کے لیے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔ یہ ٹیم عطیات اور مالی انتظام سے متعلق سامنے آنے والے الزامات کی چھان بین کر رہی ہے۔

لکھنؤ میں سماجوادی پارٹی کے ریاستی دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ بے ضابطگیوں سے متعلق اہم نگرانی کیمروں کی ریکارڈنگ دستیاب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ عطیات، نذرانوں اور دیگر مالی وسائل کا مکمل اور واضح حساب کیوں پیش نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق چندے کے انتظام میں شفافیت نہ ہونے کے باعث شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے سربراہ نے ایودھیا میں اراضی پر قبضوں اور زمین سے متعلق بے ضابطگیوں کے الزامات بھی دہرائے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی باشندوں اور پارٹی کارکنان کی جانب سے مسلسل ایسی شکایات سامنے آتی رہی ہیں جن میں لوگوں کی زمینوں اور جائیدادوں سے متعلق مسائل کا ذکر کیا گیا ہے۔ انہوں نے متاثرین سے اپیل کی کہ وہ زمین کے حصول، مکانات کے انہدام اور دیگر متعلقہ معاملات کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ ان مسائل کو دستاویزی شکل دے کر حکومت کے سامنے اٹھایا جا سکے۔


اکھلیش یادو نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے لیے مذہب سے زیادہ اہمیت دولت کی ہے، جبکہ عوام ترقی، خوشحالی، مہنگائی سے نجات اور تقسیم کی سیاست کے خاتمے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے حکومت پر عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ کسان کھاد کی قلت اور ضروری اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ سماجوادی پارٹی جلد گورکھپور میں کارکنان کا ایک بڑا اجلاس منعقد کرے گی تاکہ آئندہ انتخابی مقابلوں سے قبل تنظیمی ڈھانچے کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ اکھلیش یادو نے دعویٰ کیا کہ بی جے پی ماضی میں دوسری جماعتوں کے ارکان کو شامل کرکے اپوزیشن کو کمزور کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے، تاہم سماجوادی پارٹی ایک مضبوط سیاسی قوت کے طور پر قائم ہے۔

دوسری جانب شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ نے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اندرونی جانچ میں کسی مالی بے ضابطگی کا ثبوت نہیں ملا۔ ٹرسٹ کے مطابق حقائق واضح کرنے اور گمراہ کن اطلاعات کا جواب دینے کے لیے غیر جانب دارانہ جانچ ضروری ہے۔ خصوصی تحقیقاتی ٹیم اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے اور متعلقہ افراد سے پوچھ گچھ کر رہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔