قومی خبریں

ادویات کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو تحائف دینے پر عائد ہوگی پابندی، سپریم کورٹ نے کمیٹی تشکیل دینے کا دیا حکم

سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے گی، جو دوا ساز کمپنیوں کے مارکیٹنگ طریقۂ کار کو منضبط کرنے کے لیے تجاویز پیش کرے گی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر ڈاکٹر / آئی اے این ایس</p></div>

علامتی تصویر ڈاکٹر / آئی اے این ایس

 

ادویات کی فروخت بڑھانے کے لیے فارما کمپنیوں کی جانب سے ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف اور سہولتیں دینے کے رسم و رواج پر پابندی عائد کی جائے گی، اس حوالے سے سپریم کورٹ نے بڑا قدم اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دینے اور اس کی رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ معاملہ ’فیڈریشن آف میڈیکل اینڈ سیلز ریپریزنٹیٹو ایسوسی ایشن آف انڈیا‘ (ایف ایم آر اے آئی) کی جانب سے دائر کی گئی عرضی سے متعلق ہے۔ یہ عرضی 2021 میں دائر کی گئی تھی۔

درخواست میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ ادویات کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو تحائف دینے والی دوا ساز کمپنیوں کی جواب دہی طے کی جانی چاہیے اور مارکیٹنگ کے اس غیر اخلاقی طریقۂ کار پر روک لگانے کے لیے سخت قانون بنایا جانا چاہیے۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ کئی دوا ساز کمپنیاں اپنی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کے لیے ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف، بیرون ملک سفر، نقد رقم اور دیگر سہولتیں فراہم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں مریضوں کو مہنگی اور بعض اوقات غیر ضروری ادویات تجویز کی جاتی ہیں۔ اس کا براہ راست اثر عام لوگوں کی صحت اور ان کی جیب پر پڑتا ہے۔

اس معاملے پر گزشتہ سماعت کے دوران مرکزی حکومت نے عدالت سے اس مسئلے پر ضابطہ بنانے کے لیے مزید وقت مانگا تھا۔ مرکز نے کہا تھا کہ وہ اس معاملے میں ایک خاکہ تیار کر رہا ہے۔ اس پر سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے واضح حکم جاری کیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے۔ اس کمیٹی کا بنیادی کام دوا ساز کمپنیوں کی جانب سے کی جانے والی غلط اور غیر اخلاقی مارکیٹنگ کو روکنے کے لیے قانونی ضابطے بنانے کے سلسلے میں اپنی تجاویز دینا ہوگا۔

سپریم کورٹ نے کہا کہ مرکزی حکومت ایک کمیٹی تشکیل دے گی، جو دوا ساز کمپنیوں کی مارکیٹنگ پریکٹس کو ریگولیٹ کرنے کے لیے تجاویز دے گی۔ اس کے ساتھ ہی یہ کمیٹی ڈاکٹروں کو مہنگے تحائف یا دیگر فوائد دینے جیسی غیر اخلاقی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے قانونی دفعات سے متعلق اپنی سفارشات تیار کرے گی۔ کمیٹی اس معاملے پر عام لوگوں، ماہرین اور متعلقہ اداروں کی جانب سے دی گئی تجاویز اور اعتراضات پر بھی غور کرے گی۔

اس کے بعد کمیٹی اپنی حتمی سفارشات مرکزی حکومت کو پیش کرے گی۔ ساتھ ہی مرکزی حکومت کو اس حکم پر کی گئی کارروائی کے حوالے سے عدالت میں حلف نامہ داخل کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی اگلی سماعت کے لیے 29 جنوری کی تاریخ مقرر کی ہے۔ اس روز مرکزی حکومت کو بتانا ہوگا کہ کمیٹی کی تشکیل اور قواعد بنانے کے سلسلے میں اب تک کیا پیش رفت ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔