
آئی اے این ایس
گوہاٹی: آسام اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف دیب برت سیکیا نے ووٹر فہرست کے مختصر اور خصوصی نظرثانی عمل کے دوران بڑے پیمانے پر نام خارج کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اس عمل کو جمہوری اقدار کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ نازیرا اسمبلی حلقہ میں متعدد ووٹروں کے نام بلا جواز اور غلط طریقے سے فہرست سے نکال دیے گئے ہیں۔
Published: undefined
دیب برت سیکیا نے اس سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کو تفصیلی مکتوب ارسال کرتے ہوئے الیکشن کمیشن آف انڈیا سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ ان کے مطابق نازیرا کے ایسے مستقل باشندے، جو سابقہ انتخابات میں اپنے حقِ رائے دہی کا استعمال کر چکے ہیں، ان کے نام بغیر کسی معقول وجہ کے تازہ ووٹر لسٹ میں شامل نہیں کیے گئے۔
قائدِ حزبِ اختلاف کا کہنا ہے کہ ناموں کے اخراج کا یہ عمل قانونی طریقۂ کار کی مکمل خلاف ورزی ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ افراد میں بڑی تعداد ایسے مقامی اور قدیمی باشندوں کی ہے جو نسلوں سے نازیرا میں مقیم ہیں، حتیٰ کہ بعض خاندان آزادی سے قبل کے زمانے سے وہاں آباد ہیں۔
Published: undefined
سیکیا نے بتایا کہ متعدد معاملات میں گاؤں کے سربراہان اور مقامی ذمہ داران نے باضابطہ طور پر تصدیق کی تھی کہ متعلقہ افراد مستقل رہائشی ہیں اور اب بھی اپنے علاقوں میں قیام پذیر ہیں، اس کے باوجود ان کے نام ووٹر فہرست سے خارج کر دیے گئے یا انہیں مشتبہ قرار دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ بوتھ لیول افسران سے بات چیت کے دوران نام اخراج کی وجوہات پر نہ وضاحت مل سکی اور نہ ہی یکسانیت دکھائی دی، جس سے پورے نظرثانی عمل کی شفافیت، جواب دہی اور طے شدہ اصولوں پر عمل درآمد پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
Published: undefined
کانگریس رہنما نے الزام لگایا کہ متاثرہ فہرست میں مسلم برادری کے افراد کی تعداد نمایاں ہے، تاہم دیگر قدیمی مقامی باشندے بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے بقول اگر ایسے رجحانات کو نظرانداز کیا گیا تو یہ ووٹر لسٹ کی تیاری میں امتیازی رویے کی علامت ہوگا۔
سیکیا نے بعض ایسے واقعات کا بھی ذکر کیا جن میں فیلڈ ویریفکیشن کے دوران زندہ ووٹروں کو مردہ قرار دے دیا گیا۔ انہوں نے اسے انتظامی لاپروائی اور سنگین بے ضابطگیوں کا ثبوت قرار دیا۔ انہوں نے الیکشن کمیشن سے نازیرا کی ووٹر فہرست کی جامع دوبارہ جانچ، غلط رپورٹنگ کی سخت تفتیش اور اس بات کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا کہ کسی بھی ووٹر کا نام بغیر نوٹس، منصفانہ سماعت اور مجاز حکم کے خارج نہ کیا جائے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined