امریکہ میں ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے پر ڈیموکریٹ سینیٹروں کی سخت تنقید
ڈیموکریٹ سینیٹروں نے صدر ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے کو غیر قانونی اور مہنگا قرار دیتے ہوئے سخت تنقید کی اور کہا کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ میں شامل ہونا آئینی اصولوں کے خلاف ہے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے فیصلے پر سینیٹ میں ڈیموکریٹ سینیٹروں نے سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غیرقانونی، مہنگا اور آئینی اصولوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ڈیموکریٹ رہنماؤں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت کے اعلیٰ عہدیدار عوام کے سامنے آ کر اس جنگ کے بارے میں وضاحت پیش کریں۔
امریکی سینیٹ کی مسلح خدمات کمیٹی اور خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن سینیٹر ٹِم کین نے ٹرمپ حکومت کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو کانگریس کی منظوری کے بغیر جنگ میں دھکیل دیا گیا ہے اور اس کے نتائج ملک کے اندر اور بیرونِ ملک دونوں جگہ محسوس کیے جا رہے ہیں۔
ٹِم کین نے کہا کہ امریکہ گزشتہ بارہ دنوں سے ایران کے ساتھ جنگی صورتحال میں ہے اور اس دوران امریکی فوجیوں، عام شہریوں اور بے گناہ ایرانی شہریوں کو بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے خلاف ملک میں ناراضی بڑھتی جا رہی ہے۔
سینیٹ کی سماعت کے دوران کین نے کہا کہ آئین کے مطابق صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن صدر ٹرمپ نے کانگریس کی منظوری کے بغیر فوجی طاقت کا استعمال بڑھا دیا ہے اور دنیا کے مختلف حصوں میں کشیدگی پیدا کر دی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ ایک شخص کے یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سے جنگ میں شامل ہوا ہے اور صدر کو یہ یقین ہو گیا ہے کہ کانگریس ان کے اقدامات کو چیلنج نہیں کرے گی۔ کین نے بتایا کہ انہوں نے حال ہی میں سینیٹ میں دو جماعتی حمایت کے ساتھ جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد پیش کی تھی، تاہم ریپبلکن سینیٹروں نے اسے روک دیا۔ اب وہ سینیٹر کوری بُکر، کرس مرفی، ایڈم شف، ٹیمی بالڈون اور ٹیمی ڈک ورتھ کے ساتھ مل کر نئی قرارداد پیش کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
ادھر سینیٹر ٹیمی بالڈون اور دیگر قانون سازوں نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو اور وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کو سینیٹ میں عوامی سماعت کے لیے فوری طور پر طلب کیا جائے تاکہ وہ اس جنگ کے بارے میں کھلے عام جواب دیں۔
سینیٹروں کا کہنا ہے کہ جنگ کے اثرات پہلے ہی معیشت پر ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور امریکہ اس لڑائی پر اربوں ڈالر خرچ کر رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کو بند دروازوں کے پیچھے نہیں بلکہ امریکی عوام کے سامنے جواب دہ ہونا چاہیے۔
اسی دوران سینیٹر الزبتھ وارن نے سینیٹ کی مالیاتی ذیلی کمیٹی کی سماعت میں کانگریشنل بجٹ دفتر کے ڈائریکٹر فلپ سوگل سے جنگی اخراجات کے بارے میں سوال کیا۔ سوگل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے تقریباً پچاس ارب ڈالر کے اضافی اخراجات کی بات کی جا رہی ہے، لیکن یہ یقینی طور پر نہیں کہا جا سکتا کہ مجموعی خرچ کتنا ہوگا یا جنگ کتنے عرصے تک جاری رہے گی۔
واشنگٹن کے باہر بھی جنگ کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ رکنِ کانگریس مائیک تھامپسن کے مطابق کیلیفورنیا کے مختلف علاقوں میں سات سو سے زائد افراد نے جنگ مخالف اجتماعات میں شرکت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس جنگ میں اب تک سات امریکی ہلاک ہو چکے ہیں اور ٹیکس دہندگان کا روزانہ ایک ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو رہا ہے، جبکہ اس تنازع کا کوئی واضح اختتام نظر نہیں آ رہا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔