
’گروک‘ تصویر بشکریہ @grok
اے آئی، یعنی مصنوعی ذہانت نے ایک نئے انقلاب کی داغ بیل ضرور ڈال دی ہے، لیکن اس کے منفی اثرات بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ اے آئی کئی لوگوں کے لیے نعمت ہے، تو کئی لوگوں کے لیے اب آفت بھی ثابت ہو رہا ہے۔ ایلن مسک کے مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک ایسا ٹرینڈ دیکھنے کو مل رہا ہے، جس نے دانشور طبقہ کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
Published: undefined
دراصل ’ایکس‘ پر ’گروک اے آئی‘ کا استعمال کر لوگ قابل اعتراض اور فحش تصویریں بنوا رہے ہیں، جو کسی بھی خاتون کے وقار کو ٹھیس پہنچانے والا عمل ہے۔ اے آئی کے غلط استعمال سے نہ صرف اخلاقیات کو لے کر سوال اٹھنے لگے ہیں، بلکہ ہم سبھی کو یہ سوچنے پر بھی مجبور ہونا پڑا ہے کہ رازداری، خصوصاً ہماری تصویریں کتنی محفوظ ہیں؟ اس معاملے میں راجیہ سبھا رکن پرینکا چترویدی نے حال ہی میں مرکزی وزیر برائے الیکٹرانکس و انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو کو ایک خط لکھ کر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔
Published: undefined
پرینکا چترویدی نے 2 جنوری 2026 کو اشونی ویشنو کے نام یہ خط لکھا ہے، جسے انھوں نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے۔ خط میں انھوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فرضی اکاؤنٹ کا استعمال کر خواتین کی قابل اعتراض تصویریں پوسٹ کرنے کے لیے آرٹیفیشیل انٹلیجنس ٹولس کے غلط استعمال پر فکر ظاہر کی۔ پرینکا نے اس طرح کی حرکتوں کو خواتین کی رازداری کی خلاف ورزی قرار دیا، ساتھ ہی انھوں نے مرکزی حکومت سے خواتین کے حقوق کی حفاظت کے لیے فوراً قدم اٹھانے کی اپیل کی ہے۔
Published: undefined
پرینکا چترویدی نے اشونی ویشنو کو تحریر کردہ خط میں کہا ہے کہ ’’میں آپ کی توجہ سوشل میڈیا، خصوصاً ایکس پر سامنے آئے ایک نئے ٹرینڈ کی طرف دلانا چاہتی ہوں، جس میں اے آئی گروک فیچر کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘ وہ آگے لکھتی ہیں ’’مرد فرضی اکاؤنٹ بنا کر خواتین کی تصویریں پوسٹ کر رہے ہیں اور گروک کو ایسے پرامپٹ دے رہے ہیں، جس سے ان کے کپڑے کم نظر آئیں۔ یہ صرف فرضی اکاؤنٹ سے تصویریں شیئر کرنے تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ ان خواتین کو بھی ہدف بنایا جا رہا ہے جو اپنی تصویریں پوسٹ کرتی ہیں۔ یہ بالکل غلط ہے اور اے آئی کا منفی استعمال ہے۔‘‘
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز
تصویر: پریس ریلیز