قومی خبریں

حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی شان میں گستاخی قابل مذمت: مولانا میر قادر علی خان

مولانا میر قادر نے کہا کہ امیش کے خلاف فوجداری معاملات کے اندراج کے لئے مذہبی، سیاسی، سماجی، ملی اور غیرسرکاری تنظیموں کے علاوہ ممتاز علمائے کرام و مشائخ عظام کی پہل قابل مبارکباد ولائق صد ستائش ہے

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

حیدرآباد: مولانا میر قادر علی خان ساجد نواب صدر انجمن قضاۃ تلنگانہ اسٹیٹ وصدر قاضی شریعت پناہ بلدہ نے صحافی امیش دیوگن کی جانب سے حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی شان اقدس میں کی گئی گستاخی کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ حضرت خواجہ غریب نوازؒ کے عقیدت مندوں کے دلوں کو ٹھیس پہنچانے والے صحافی کو سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ روزانہ ہزاروں افراد حضرت خواجہ غریب نواز کے آستانے پر حاضری دینے کو اعزاز سمجھتے ہیں اور برصغیر میں اسلام کے لئے حضرت خواجہ غریب نوازؒ کی خدمات ناقابل فراموش رہی ہیں جنہوں نے دین کی آبیاری کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس مقدس ہستی کے خلاف زبان درازی کرنے والے صحافی امیش دیوگن کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ صاحب کے چاہنے والے ساری دنیامیں رہتے اور بستے ہیں جو سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی جانب سے شدید و پرزور الفاظ میں مذمت کر رہے ہیں۔ انہوں نے بلا لحاظ مذہب وملت حضرت خواجہ غریب النواز رحمہ اللہ کے عقیدت مندوں کی جانب سے ملک کے مختلف مقامات پر پولیس اسٹیشنوں میں دائر کردہ معاملات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ امیش دیوگن پر غداری کا معاملہ درج کیا جائے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ حضرت خواجہ غریب النوازؒ کے آستانے پر آٹھ صدیوں سے زائد عرصہ سے امن وامان کے متلاشی حاضری دیتے ہوئے علمی، روحانی فیضان سے مالا مال ہو رہے ہیں اور تاقیام قیامت ہوتے رہیں گے۔ مولانا میر قادر علی خان ساجد نواب نے مزید کہا کہ امیش کے خلاف فوجداری معاملات کے اندراج کے لئے مذہبی، سیاسی، سماجی، ملی اور غیرسرکاری تنظیموں کے علاوہ ممتاز علمائے کرام و مشائخ عظام کی پہل قابل مبارکباد ولائق صد ستائش ہے یہی وجہہ ہے کہ امیش دیوگن اینکر فرضی معذرت نامہ کا بہانہ تلاش رہے ہیں لیکن ہم چاہتے ہیں کہ ان پر غداری کا معاملہ چلایا جائے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined