دبئی سے کاٹھمنڈو جارہی پرواز کی لکھنؤ ایئرپورٹ پر ایمرجنسی لینڈنگ، فوری طور پر باہر نکالے گئے مسافر

طیارے میں 154 مسافر سوار تھے۔ لینڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ بعد ازاں ایئرپورٹ ذرائع نے بتایا کہ طیارے میں ایندھن کم ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی لینڈنگ کرائی گئی۔

ہوائی جہاز، تصویر یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

اتر پردیش کی راجدھانی لکھنؤ کے چودھری چرن سنگھ انٹر نیشنل ایئرپورٹ پر ایک بین الاقوامی پرواز کی ایمرجنسی لینڈنگ کی خبر آرہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ دبئی سے کاٹھمنڈو جانے والی پرواز کی لکھنؤ ایئرپورٹ پر آج صبح ایمرجنسی لینڈنگ کرائی گئی۔ ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے میں ایندھن کم ہونے کی وجہ سے لکھنؤ ایئرپورٹ پر یہ لینڈنگ ہوئی ہے۔

اطلاع کے مطابق ہفتہ کی صبح 8:22 بجے لکھنؤ ہوائی اڈے پر فلائی دبئی کی پرواز نمبر ایف زیڈ 1133 کی ایمرجنسی لینڈنگ کی وجہ سے ایئرپورٹ پر کچھ دیر کے لیے ہلچل مچ گئی تھی۔ طیارے میں 154 مسافر سوار تھے۔ لیننڈنگ کے بعد تمام مسافروں کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا۔ بعد ازاں ایئرپورٹ ذرائع نے بتایا کہ طیارے میں ایندھن کم ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی لینڈنگ کرائی گئی۔


خبر لکھے جانے تک طیارہ ہوائی اڈے پر کھڑا ہے اور تمام مسافر ابھی تک اندر ہیں۔ ہوائی اڈے کے حکام اور سیکیورٹی ادارے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس سے قبل 31 مارچ کو دہلی جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کے طیارے کو دوران پرواز دھوئیں کا الرٹ ملنے کے بعد لکھنؤ میں ایمرجنسی ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔

پائلٹ نے ایمرجنسی کی اطلاع دینے کے لیے پین پین کال بھی کی تھی۔ باگ ڈوگرا سے دہلی جانے والی ایئر انڈیا ایکسپریس کی پرواز کو پیر کی شام لکھنؤ کے چودھری چرن سنگھ بین الاقوامی ہوائی اڈے پر دھوئیں کا الرٹ ملنے کے بعد ایمرجنسی لینڈنگ کرنا پڑی۔ پرواز میں 148 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے۔ ہوائی جہاز کے ایویونکس بے (جہاں اہم الیکٹرانک سسٹم ہوتے ہیں) میں دھواں دیکھا گیا، جس کے بعد پائلٹ نے’’میڈ ڈے‘‘ کال کے بجائے پین پین کال کی تھی۔ تمام مسافر اور عملہ محفوظ رہے اور طیارہ بغیر کسی حادثہ کے لکھنؤ میں اتر گیا۔


اس سلسلے میں ایئر لائن نے کہا تھا کہ عملے نے فوری طور پر احتیاطی تدابیر اختیار کی اور مسافروں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے پرواز کا رخ موڑ دیا۔ لینڈنگ کے بعد مسافروں کو ریفریشمنٹ فراہم کی گئی اور بعد میں دہلی جانے والی دوسری پروازوں میں بٹھایا گیا۔ ایئر انڈیا ایکسپریس نے اس واقعے کی تصدیق کی اور کہا کہ ڈائیورٹ کرنے کا فیصلہ معیاری حفاظتی طریقہ کار کے مطابق کیا گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔