’کیا آپ بھی کباڑی کو بیچ رہے ہیں اپنا پرانا موبائل؟ تو ہو جائیں محتاط‘، سائبر ٹھگی میں ہو رہا ہے استعمال، 20 گرفتار

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پرانے موبائل پھیری والوں یا کباڑیوں کو دینے سے گریز کریں یا پھر اس حوالے سے انتہائی احتیاط برتیں۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

سائبر جرائم کے متعلق کانپور پولیس نے ایک حیران کن انکشاف کیا ہے۔ پولیس کے مطابق سائبر ٹھگ اب بیکار ہو چکے پرانے موبائل فون کو ہی اپنے جرائم کا ہتھیار بنا رہے ہیں۔ ایسے میں اگر آپ کے گھر میں پرانے یا خراب موبائل پڑے ہیں، تو انہیں فروخت کرنے یا کباڑی کو دینے سے قبل احتیاط برتنا انتہائی ضروری ہے۔

پولیس کے مطابق محلوں میں پھیری لگا کر پرانے سامان کے بدلے برتن یا دیگر چیزیں دینے والے کباڑی ان خراب موبائل فون کو اکٹھا کرتے ہیں۔ بعد میں یہ موبائل فون ایک منظم سائبر فراڈ گروہ تک پہنچائے جاتے ہیں۔ یہ ٹھگ ان کباڑ فون سے کام کے پارٹس نکال کر کسٹمائزڈ موبائل تیار کرتے ہیں، جن کا استعمال سائبر فراڈ میں کیا جاتا ہے۔


ہندی نیوز پورٹل ’ٹی وی 9 بھارت ورش‘ پر شائع خبر کے مطابق کانپور پولیس نے حال ہی میں ایسے 20 سائبر مجرمان کو گرفتار کیا ہے۔ ان کے پاس سے 17 اینڈرائیڈ فون، 4 کی پیڈ فون اور دیگر الیکٹرانک ڈیوائس برآمد ہوئے ہیں۔ تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ ان ڈیوائس میں سے بیشتر پرانے اور کباڑ موبائلوں کے پارٹس سے تیار کیے گئے تھے۔ یہی نہیں ان فون کی میموری سے پرانا ڈیٹا بھی ریکور کیا جا سکتا تھا، جس سے عام لوگوں کی ذاتی معلومات شدید خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔

پولیس افسران کے مطابق ان کسٹمائزڈ فون کی تیاری کے بعد کچھ ایجنٹ انہیں سائبر ٹھگوں تک پہنچاتے تھے۔ ان کی قیمت 5 ہزار سے 50 ہزار روپے تک وصول کی جاتی تھی۔ ٹھگ ان فون کا استعمال کر لوگوں کو کال، میسج یا دیگر ڈیجیٹل ذرائع سے نشانہ بناتے تھے۔ اے ڈی سی پی سمت رامٹیکے کے مطابق اس پورے نیٹورک میں استعمال ہونے والے زیادہ تر موبائل کباڑ کے پارٹس سے تیار کیے گئے تھے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پرانے موبائل پھیری والوں یا کباڑیوں کو دینے سے بچیں یا پھر اس حوالے سے انتہائی احتیاط برتیں۔


سائبر ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانے موبائل کی میموری میں اکثر ڈیٹا محفوظ رہ جاتا ہے، جسے تکنیکی طریقوں سے دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ٹھگ اسی ڈیٹا کا استعمال لوگوں کو بلیک میل کرنے یا دھوکہ دہی کا جال بچھانے میں کرتے ہیں۔ سائبر کے ماہر امت شرما کے مطابق سائبر مجرم ان کسٹم فون میں وی پی این اور ایسی ایپس کا استعمال کرتے ہیں جو ورچوئل موبائل نمبر فراہم کرتی ہیں۔ اس سے ان کی اصل لوکیشن کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ ڈیوائس میں ایک ساتھ کئی سم کارڈ لگانے کی سہولت ہوتی ہے، جس سے ’آئی ایم ای آئی‘ نمبر کو ٹریس کرنا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ پرانے موبائل کو کباڑی کو دینے سے قبل اسے مکمل طور پر فارمیٹ کریں، تمام اکاؤنٹس سے لاگ آؤٹ کریں، ایس ڈی کارڈ نکال لیں اور ذاتی ڈیٹا کو مستقل طور پر ڈیلیٹ کر دیں، تاکہ آپ کی معلومات غلط ہاتھوں میں نہ پہنچے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔