
دہلی کے ستیہ نکیتن میں 5 منزلہ عمارت منہدم ہونے کے معاملے میں پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے پی جی چلانے والے ملزم شبھم تیاگی کو پیشگی ضمانت دینے سے انکار کر دیا۔ عدالت نے کہا کہ معاملے کی تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ملزم کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ ضروری ہے۔ واضح رہے کہ اس حادثے میں 7 افراد کی موت ہوئی تھی۔ ایڈیشنل سیشن جج سوربھ پرتاپ للیر نے شبھم تیاگی کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کے حالات ملزم کو راحت دینے کے حق میں نہیں ہیں۔ عدالت کے سامنے یہ بات بھی سامنے آئی کہ تیاگی نے اپنی ضمانت کی درخواست میں دوسری اور تیسری منزل سے متعلق کرایے کے معاہدے کا ذکر نہیں کیا تھا۔ تفتیشی ایجنسی نے سماعت کے دوران یہ معاہدہ عدالت میں پیش کیا۔ اس معاہدے کے مطابق شبھم تیاگی نے اسی عمارت کی دوسری اور تیسری منزل بھی کرایے پر لی تھی۔
پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے پایا کہ شبھم تیاگی اور شریک ملزم سدھانشو کے کرایے کے دونوں معاہدے 6 ستمبر 2025 کو چند منٹ کے وقفے سے تیار کیے گئے تھے۔ دونوں دستاویزات ایک ہی اسٹامپ وینڈر اکاؤنٹ سے تیار کیے گئے تھے۔ خاص بات یہ تھی کہ دونوں نے ایک دوسرے کے کرایے کے معاہدے پر بطور گواہ دستخط کیے تھے۔ عدالت نے کہا کہ یہ پوری صورتحال سدھانشو کے تنہا پی جی چلانے کے بجائے دونوں کے درمیان شراکت داری کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ اس معاملے میں زخمی طالب علم نتیش چھبے کے بیان کا بھی عدالت نے ذکر کیا۔ طالب علم نے بتایا کہ اس نے دونوں ملزمین سے ماہانہ 14500 روپے کرایے پر رہنے کی جگہ لی تھی۔ طالب علم کے مطابق پی جی میں رہنے والے طلباء نے جب گراؤنڈ فلور پر تعمیراتی کام، شور اور لوہے کی راڈ کاٹے جانے کے بارے میں شکایت کی تو دونوں ملزمین نے کہا تھا کہ مرمت کا کام چل رہا ہے اور پی جی کو بیسمنٹ تک بڑھایا جائے گا۔ الزام ہے کہ زیادہ شکایت کرنے پر طلباء کو پی جی سے نکالنے کی دھمکی بھی دی گئی تھی۔
شبھم تیاگی نے عدالت میں خود کو دہلی بار کونسل میں رجسٹرڈ وکیل بتایا اور کہا کہ وہ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پریکٹس کرتا ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ وہ سدھانشو کا صرف دوست تھا اور اس نے پی جی کے کاروبار میں رقم لگائی تھی۔ عمارت کی ملکیت یا اس کے ڈھانچے پر کوئی کنٹرول نہیں تھا، لیکن عدالت نے کہا کہ دستیاب مواد سے وہ عمارت سے بالکل ناواقف شخص نہیں لگتا۔ کرایے کے دستاویز کو ضمانت عرضی میں ظاہر نہ کرنا بھی عدالت کے لیے اہم بات رہی۔ عدالت نے کہا کہ تفتیش ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔ شبھم تیاگی سے حراست میں پوچھ تاچھ کرکے شریک ملزم سے آمنے سامنے پوچھ تاچھ کرنے، پی جی کے کاروبار میں رقم کی لین دین کا پتہ لگانے اور تعمیراتی کام سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اس میں شبھم تیاگی کے رضامند ہونے کے کردار کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ عدالت نے حالانکہ واضح کیا کہ پیشگی ضمانت مسترد کرنے کا یہ حکم معاملے کے حتمی حقائق پر عدالت کی کوئی رائے نہیں ہے۔ عدالت نے ملزم پی جی آپریٹر سدھانشو اور پی جی آپریٹر شبھم تیاگی کو 2 دنوں کی پولیس حراست میں بھیج دیا ہے۔
اس معاملے میں پیر کے روز عدالت نے عمارت کے مالک 81 سالہ ہری رام، جو ہندوستانی فضائیہ سے ریٹائرڈ سارجنٹ ہیں، اور ان کی 75 سالہ اہلیہ ارمیلا کو 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ ان کے بیٹے مہیش کو 2 دنوں کی پولیس حراست میں بھیجا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق مہیش نے اگست 2025 میں یہ جائیداد سدھانشو اور شبھم تیاگی کو کرائے پر دی تھی۔ اس کے بعد دونوں نے یہاں ’ہاسٹل ڈیز‘ کے نام سے پی جی چلانا شروع کیا تھا۔ 5 منزلہ اس عمارت میں کئی طلباء اور دیگر لوگ رہتے تھے۔ ایف آئی آر کے مطابق ابتدائی تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ عمارت کافی پرانی تھی اور کرائے سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے کے لیے اس میں اضافی منزلیں بنائی گئی تھیں۔ اب تفتیشی ایجنسی یہ معلوم کرنے میں مصروف ہے کہ کیا ان اضافی منزلوں اور تعمیراتی کام کی وجہ سے عمارت کے پرانے ڈھانچے پر دباؤ بڑھا، جس کی وجہ سے 6 ستمبر کو پوری عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی اور 7 افراد کی جان چلی گئی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔