مودی اور پیزشکیان ملاقات: مغربی ایشیائی تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے پر زور

دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات ہے۔ یہ دوسری ملاقات  اس وقت ہوئی جب ایرانی صدر برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دارالحکومت دہلی پہنچے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر بشکریہ آئی اے این ایس</p></div>
i

وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ایرانی صدر مسعود پیزشکیان کے ساتھ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعہ مغربی ایشیائی تنازعات کو حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا کی صورتحال کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید بہتر بنانے پر تبادلہ خیال کیا۔

دو ہفتوں سے بھی کم عرصے میں دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ دوسری ملاقات تھی۔ یہ ملاقات  اس وقت ہوئی جب ایرانی صدر برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی پہنچے۔ پیزیشکیان کا بطور صدر ہندوستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ پیزشکیان ایک ایسے وقت میں ہندوستان کا دورہ کر رہے ہیں جب ایران پر امریکہ کی نئی اقتصادی پابندیوں کے بعد مغربی ایشیا میں اچانک کشیدگی بڑھ گئی ہے۔


ہندوستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں نے مغربی ایشیا میں حالیہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم نے ہندوستان کے اس مستقل موقف کو دہرایا کہ تمام مسائل کو بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعہ حل کیا جانا چاہیے۔ وزارت نے ایک بیان میں کہا کہ وزیر اعظم نے "خطے میں دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنانے، جہاز رانی اور تجارت کی آزادی کے تحفظ اور سمندری مسافروں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل کوششوں کی ضرورت پر بھی زور دیا۔"

وزارت خارجہ نے کہا کہ مودی اور پیزشکیان نے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ وزیر اعظم مودی نے مشکل حالات کے باوجود برکس اجلاس میں ایران کی باقاعدہ اور اعلیٰ سطح کی شرکت کے لیے شکریہ ادا کیا۔ وزارت نے کہا، "انہوں نے 'گلوبل ساؤتھ' کے ممالک کے درمیان لچک، اختراع، تعاون اور استحکام کے جذبے کو فروغ دینے کے لیے برکس کی صلاحیت کو نوٹ کیا۔"وزیر اعظم  مودی نے 31 اگست کو بشکیک میں ایس سی او سربراہی اجلاس کے دوران ایرانی رہنما سے ملاقات کی اور تنازع کو ختم کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا۔


پیزشکیان نے مودی پر زور دیا کہ وہ مختلف جماعتوں کے ساتھ ہندوستان کے وسیع رابطوں کو بروئے کار لاتے ہوئے انہیں جنگ اور خونریزی کے راستے سے ہٹ کر بات چیت اور مفاہمت کی طرف لے جانے میں مدد کریں۔ ہندوستان نے آبنائے ہرمز کے ذریعہ بلا روک ٹوک جہاز رانی کی اہمیت کا اعادہ کیا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔ اسے دنیا کا سب سے اہم انرجی چوک پوائنٹ سمجھا جاتا ہے، جہاں سے دنیا کا تقریباً 20 فیصد پیٹرولیم گزرتا ہے۔

وزیر اعظم  مودی اور ایرانی صدر کی ہاتھ پکڑے تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ اس میں وزیر اعظم  مودی اور پیزشکیان ایک دوسرےکے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑے ہوئےہیں۔ سوشل میڈیا پر اسے دوستی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ ہندوستان میں ایرانی سفارت خانے نے بھی اس تصویر کو شیئر کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔