یمن میں حوثیوں کی اہم پیش قدمی، بحیرۂ احمر کے ساحل اور باب المندب کے جزائر پر قبضے کا دعویٰ

یمن میں حوثیوں اور حکومتی افواج کے درمیان لڑائی شدت اختیار کر گئی۔ حوثیوں نے مغربی ساحل اور باب المندب کے مزید جزائر پر قبضے کا دعویٰ کیا، جبکہ سعودی جہازوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا اعلان کیا

<div class="paragraphs"><p>Getty Images</p></div>
i

صنعا: یمن میں حوثی باغیوں اور حکومتی افواج کے درمیان جاری شدید لڑائی کے دوران حوثیوں نے ملک کے تقریباً پورے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے اور باب المندب آبنائے میں واقع مزید دو جزائر پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس پیش رفت سے خطے کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شامل باب المندب کی سکیورٹی پر عالمی تشویش بڑھ گئی ہے۔

اے ایف پی کے مطابق بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمنی حکومت سے وابستہ ایک فوجی افسر نے بتایا کہ مغربی ساحل پر حکومتی افواج کے زیرِ کنٹرول باقی ماندہ علاقے بھی حوثیوں کے قبضے میں چلے گئے ہیں۔ افسر نے مزید کہا کہ حوثی جنگجوؤں نے باب المندب آبنائے میں واقع دو دیگر جزائر پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

اس سے قبل حکومتی ذرائع نے بتایا تھا کہ حوثی جنگجو باب المندب کے سامنے واقع ذو باب شہر تک پہنچ گئے ہیں، جبکہ مایون جزیرے پر بھی ان کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

دوسری جانب حوثیوں نے بحیرۂ احمر اور باب المندب میں بین الاقوامی جہاز رانی کے حوالے سے کہا ہے کہ غیر سعودی جہازوں کو ان سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ گروپ کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کمپنیوں کے جہاز محفوظ طریقے سے آمدورفت جاری رکھ سکتے ہیں، تاہم سعودی عرب سے منسلک جہاز اس کی بحری ناکہ بندی کے دائرے میں رہیں گے۔


حوثیوں کا یہ مؤقف اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ گروپ ماضی میں بحیرۂ احمر میں بین الاقوامی تجارتی جہازوں کے لیے خطرہ پیدا کر چکا ہے۔ موجودہ پالیسی کے ذریعے حوثی بظاہر اپنے دباؤ کو سعودی عرب تک محدود رکھنے اور امریکہ کے ساتھ براہِ راست تصادم سے گریز کا اشارہ دے رہے ہیں، تاہم لڑائی مزید پھیلنے کی صورت میں یہ صورتحال تبدیل بھی ہو سکتی ہے۔

ادھر اطلاعات کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف براہِ راست امریکی فوجی تعاون طلب کیا تھا، تاہم امریکہ نے براہِ راست فوجی کارروائی سے گریز کرتے ہوئے انٹیلی جنس معلومات اور اہداف کی نشاندہی میں تعاون کی پیشکش کی ہے۔

یمن کے مغربی ساحل پر لڑائی کے ساتھ تعز کے جنوب اور مغرب میں بھی جھڑپیں جاری ہیں۔ حوثیوں کی جانب سے پانچ بیلسٹک میزائل داغے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ گرفتاریوں اور گھروں پر چھاپوں کے باعث 150 سے زائد خاندان نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ تشدد کے نتیجے میں کم از کم 20 ہزار افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ اے ایف پی کے مطابق لڑائی میں کم از کم 500 افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر حوثی جنگجو شامل ہیں۔ باب المندب بحیرۂ احمر کو خلیج عدن اور آگے نہر سویز سے جوڑتا ہے اور یورپ و ایشیا کے درمیان تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یمن میں حوثیوں کی حالیہ پیش قدمی کے باعث اس راستے کی سلامتی پر عالمی توجہ ایک بار پھر مرکوز ہو گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔