
مرکزی جانچ بیورو سی بی آئی نے نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک معاملے میں جمعہ کو ایک اور ملزم کو گرفتار کر لیا۔ جانچ ایجنسی کے مطابق مہاراشٹر کے پونے میں واقع سیٹھ ہیرالال صراف اسکول سے وابستہ پروفیسر منیشا سنجے حولدار کو اس معاملے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ملزمہ نیٹ یو جی 2026 کے امتحانی عمل سے براہ راست جڑی ہوئی تھیں اور ان کے کردار کی جانچ کے بعد یہ کارروائی کی گئی۔
Published: undefined
جانچ ایجنسی کے مطابق اب تک اس معاملے میں دہلی، جے پور، گروگرام، ناسک، پونے، لاتور اور اہلیانگر سمیت مختلف شہروں سے مجموعی طور پر 11 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ ان میں 7 ملزمان مہاراشٹر سے تعلق رکھتے ہیں۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ اس پورے معاملے کی کئی زاویوں سے جانچ کی جا رہی ہے تاکہ پیپر لیک کے نیٹ ورک کا مکمل پتہ لگایا جا سکے۔
سی بی آئی کی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا کہ منیشا سنجے ہوالدار کو قومی جانچ ایجنسی این ٹی اے نے نیٹ یو جی 2026 کے لیے ماہر کے طور پر مقرر کیا تھا۔ وہ فزکس مضمون سے متعلق سوالات کی تیاری کے عمل سے جڑی ہوئی تھیں اور ان کے پاس سوالنامے سے متعلق مکمل معلومات موجود تھیں۔
Published: undefined
جانچ میں یہ بات سامنے آئی کہ اپریل 2026 کے دوران انہوں نے فزکس مضمون کے کچھ سوالات شریک ملزم منیشا مانڈھرے کے ساتھ شیئر کیے تھے۔ سی بی آئی کے مطابق بعد میں جانچ کے دوران یہ پایا گیا کہ وہ سوالات نیٹ یو جی 2026 کے اصل فزکس سوالنامے سے مطابقت رکھتے تھے۔
واضح رہے کہ منیشا مانڈھرے کو سی بی آئی نے 16 مئی کو گرفتار کیا تھا۔ جانچ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ ان دونوں کے درمیان سوالات کے تبادلے نے امتحان کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
Published: undefined
نیٹ یو جی 2026 کا امتحان 3 مئی کو منعقد ہوا تھا، تاہم امتحانی پرچہ لیک ہونے کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد قومی جانچ ایجنسی نے 10 مئی کو امتحان منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس کے بعد حکام نے اعلان کیا کہ اب نیٹ یو جی 2026 کا امتحان دوبارہ 21 جون 2026 کو منعقد کیا جائے گا۔
پیپر لیک معاملے نے ملک کے تعلیمی نظام اور مسابقتی امتحانات کی شفافیت پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ جانچ ایجنسیاں معاملے کے تمام ذمہ دار افراد تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined