قومی خبریں

’مودی حکومت میں مزید ایک منصوبہ کا ڈبہ گول‘، پی ایم انٹرن شپ اسکیم کا 96 فیصد بجٹ استعمال نہ ہونے پر کانگریس کا طنز

کانگریس کا کہنا ہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے جب کسی منصوبہ کے لیے مختص رقم خرچ نہیں ہو سکا۔ قبل میں میک ان انڈیا، اسکل انڈیا، اسمارٹ سٹی، نمامی گنگے جیسے منصوبے بھی ناکام ثابت ہو چکے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia</p></div>

پی ایم مودی، تصویر ’ایکس‘ @INCIndia

 

’’مودی حکومت نے پی ایم انٹرن شپ منصوبہ شروع کیا تھا، جس کے تحت نوجوانوں کو روزگار دلانا تھا۔ لیکن حکومت نے 2025 (اپریل-نومبر) میں اس منصوبہ کے بجٹ کا محض 4 فیصد پیسہ ہی خرچ کیا۔ بجٹ کا 96 فیصد پیسہ حکومت استعمال ہی نہیں کر پائی۔ مجموعی طور پر مودی حکومت میں مزید ایک منصوبہ کا ڈبل گول ہو گیا۔ پی ایم انٹرن شپ منصوبہ بری طرح ناکام ہو گیا۔‘‘ یہ بیان کانگریس نے آج اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر دیا ہے۔ ساتھ ہی کانگریس نے اس سوشل میڈیا پوسٹ میں ایک انگریزی روزنامہ کی اُس سرخی کا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا ہے، جس میں مذکورہ منصوبہ کی ناکامی کا ذکر موجود ہے۔

Published: undefined

کانگریس نے اس معاملہ میں مودی حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ ہے ’’اس حکومت کے پاس نہ روزگار دینے کا ویزن ہے، نہ ہی بے روزگاری مٹانے کا منصوبہ۔‘‘ ساتھ ہی اس نے کہا ہے کہ یہ کوئی پہلی بار نہیں ہے جب کسی منصوبہ کے لیے مختص رقم خرچ نہیں ہو سکا۔ قبل میں میک اِن انڈیا، اسکل انڈیا، اسمارٹ سٹی، نمامی گنگے، سوچھ بھارت ابھیان، جَل جیون مشن جیسی اسکیمیں بھی ناکام ثابت ہو چکی ہیں۔‘‘ پوسٹ کے آخر میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’حقیقی معنوں میں ان اسکیموں کی آڑ میں بی جے پی حکومت نے صرف اپنا کھوکھلا پی آر کیا ہے، کروڑوں کا گھوٹالہ کیا ہے اور دبا کر موٹی ملائی کھائی ہے۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ ’پی ایم انٹرن شپ منصوبہ‘ کے تحت نوجوانوں کو سرکردہ 500 کمپنیوں میں انٹرن شپ دی جانی تھی اور حکومت کی طرف سے اس کے لیے فنڈ مہیا کرایا جانا تھا۔ 5 سال میں ایک کروڑ کی انٹرن شپ دینے کا ارادہ رکھنے والے اس منصوبہ کا حال ایسا ہے کہ کچھ ہزار نوجوان ہی اب تک انٹرن شپ مکمل کر پائے ہیں۔ حال ہی میں ’وزیر اعظم اسکل ڈیولپمنٹ منصوبہ‘ کا حال بھی ایسا ہی ہونے کی خبر آئی تھی۔ سی اے جی نے تو اس میں بہت بڑے گھوٹالہ کا اشارہ بھی کیا اور کہا کہ منصوبہ کا پورا مقصد ہی بھٹک گیا ہے۔

Published: undefined

بہرحال، ’ہندو بزنس لائن‘ کی رپورٹ میں کنٹرولر جنرل آف اکاؤنٹس یعنی ’سی جی اے‘ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 26-2025 کے پہلے 8 مہینوں (اپریل سے نومبر) میں وزارت برائے کارپوریٹ امور کو 11500 کروڑ روپے سے زیادہ کا بجٹ ملا تھا، لیکن وزارت نے تقریباً 500 کروڑ روپے ہی خرچ کیے۔ یعنی مجموعی بجٹ کا محض 4 فیصد ہی استعمال ہوا۔ اس میں سب سے بڑا حصہ ’پی ایم انٹرن شپ اسکیم‘ کے لیے رکھا گیا تھا۔ مجموعی بجٹ میں سے تقریباً 10800 کروڑ روپے، یعنی 94 فیصد صرف اسی منصوبہ کے لیے تھے۔ لیکن منصوبہ کی خراب حالت کی وجہ سے اتنا بڑا فنڈ استعمال ہی نہیں ہو پایا۔

Published: undefined

غور کرنے والی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال، یعنی مالی سال 2025 میں بھی کچھ ایسے ہی حالات دیکھنے کو ملے تھے۔ شروع میں وزارت کو 2667 کروڑ روپے کا بجٹ دیا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے گھٹا کر محض 1078 کروڑ روپے کر دیا گیا، کیونکہ بہت سارا پیسہ خرچ نہیں ہوا۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نوجوانوں کی طرف سے بھی منصوبہ میں زیادہ دلچسپی دیکھنے کو نہیں مل رہی۔ پارلیمنٹ میں 15 دسمبر 2025 کو وزیر مالیات نرملا سیتارمن نے تحریری جواب میں بتایا تھا کہ منصوبہ کے پہلے دور کے پائلٹ پروجیکٹ میں 1.27 لاکھ انٹرن شپ کے مواقع کو لے کر 6.21 لاکھ درخواست موصول ہوئے۔ کمپنیوں نے 82000 سے زیادہ آفر دیے، لیکن محض 28 ہزار نوجوان نے ہی اسے قبول کیا۔ قبولیت کی شرح محض 34 فیصد رہی۔ 30 نومبر 2025 تک محض 2066 انٹرنس نے اپنی انٹرن شپ مکمل کی تھی۔ دوسرے دور میں بھی حالات تقریباً ویسے ہی ہیں۔ 1.18 لاکھ مواقع پر 83 ہزار سے زیادہ آفر گئے، لیکن منظور صرف 24600 کے قریب ہوئے، یعنی قبولیت کی شرح 30 فیصد سے بھی کم رہی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined